اورنج لائن منصوبے میں تاخیر پر سپریم کورٹ برہم، سیکریٹری فنانس اور ٹرانسپورٹ طلب

اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ کی راہ میں جو بھی رکاوٹ بنے اُسے ٹریک کا حصہ بنا دیا جائے، منصوبے میں تاخیر پر سپریم کورٹ برہمی کا اظہار کیا، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری فنانس سمیت متعلقہ حکام کو طلب کرليا۔

سپریم کورٹ میں لاہور میں اورنج لائن منصوبے سے متعلق کیس سماعت ہوئی، عدالت عظمیٰ نے سوال کیا کہ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود منصوبہ میں تاخیر کیوں؟، برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گی تو پھر کہیں اور جائیں گی، ساتھ ہی معاملہ نیب کو بھجوانے کا عندیہ بھی دے دیا۔

اورنج لائن ٹرین منصوبہ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ فنڈز کی وجہ سے منصوبے پر کام نہیں رکنا چاہئے، پراجیکٹ کے راستے میں جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنادیا جائے، منصوبے پر کام نہیں ہوگا تو معاملہ نیب کو بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن بولے تعمیراتی کمپنیوں نے 15 اپریل تک کام مکمل کرنے کی یقین دہانی پوری نہیں کی، کام نہ ہونے سے منصوبے میں تاخیر ہورہی ہے۔

آئندہ سماعت پر سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری فنانس، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ عدالت نے نیب کی پراسیکیویشن ٹیم اور تعمیراتی کمپنیوں کے سربراہان کو بھی نوٹس جاری کردیئے، سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

CJP

SCP

ORANGE LINE TRAIN

Orange Line Train Project Case

Tabool ads will show in this div