سندھ ہائی کورٹ کا 17 لاپتہ بچوں کو بازیاب کرانے حکم

سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد اور بچوں کي بازيابي سے متعلق کيس ميں متعلقہ حکام کو شہری سمیت 17 لاپتہ بچوں کو بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائي کورٹ ميں 50 سے زائد لاپتہ افراد کي بازيابي سے متعلق درخواستوں کي سماعت کے دوران لاپتہ شہري کي ماں اور اہليہ عدالت ميں رو پڑيں۔ اہليہ نے کہا کہ مشتاق عرف عادل 4 سال سے لاپتہ ہے، مشتاق کو بازیاب نہ کرایا تو بچوں سمیت خودکشی کرلوں گی۔

دوسري جانب 18 گمشدہ بچوں سے متعلق کيس ميں پوليس نے 14 سالہ لڑکے کو عدالت ميں پيش کيا تو ڈي آئي جي سي آئي اے نے بتايا کہ چودہ سالہ حسنين 2 سال سے ہندو فيملي کے ساتھ رہ رہا تھا، بعد میں پولیس افسر نے 2 سال اپنے پاس رکھا۔

عدالت میں بچے کے والد نے بيان ديا کہ حسنین کو سوتیلی ماں نے مارا پیٹا تھا اس لیے وہ ناراض ہو کر چلا گیا۔ عدالت نے لڑکے کے والد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے پولیس پٹی پڑھا کر لائی ہے، آپ بھي وہی باتیں کر رہے ہیں۔

عدالت نے استفسار کيا کہ بچہ خود واپس آگیا ہے تو پولیس اس کا کریڈٹ کیوں لے رہی ہے؟ جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے کہا کہا کہ عدالت پولیس کی کارکردگی سے بہت مایوس ہے۔

عدالت نے بچے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرکے اصل کہانی کی تحقیقات کرنے اور مزید 17 لاپتہ بچوں کو بازیاب کرانے کا بھي حکم دیا۔

SINDH HIGH COURT

CHILD MISSING

Karcahi

DIG CIA

missing person case

Tabool ads will show in this div