دنیا کی خوبصورت عبادت گاہیں

??????????
??????????

یہ دنیا ہر رنگ ، نسل، ذات اور مذہب کے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ ہر مذہب میں عبادت کا ایک الگ اور جداگانہ طریقہ ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی عبادت گاہیں بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مختلف ہیں۔ دنیا میں بسنے والے مختلف مذاہب کی چند خوبصورت اور دلکش ترین عبادت گاہوں کا احوال اور تصاویر آپ کی معلومات کیلئے دی گئی ہیں۔

انگور واٹ، کمبوڈیا

یہ بدھ مت کا مندر 162.6 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس سے قبل یہ مندر ہندووں کے زیر استعمال تھا۔ اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین آثار قدیمہ میں ہوتا ہے۔

سینٹ بیسل کیتھیڈرل، روس

اس کا شمار روس کے خوبصورت ترین مقامات میں ہوتا ہے، جہاں سارا سال سیاحوں کی آمد جاری رہتی ہے۔

خانہ کعبہ

سعودی شہر مکہ میں قائم مسجد کا شمار بھی دنیا کی خوبصورت ترین عبادت گاہوں میں ہوتا ہے۔ یہاں دنیا بھر سے مسلمان فریضہ حج اور عمرے کی ادائیگی کیلئے آتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کی مقدس ترین عبادت گاہ ہے۔

گولڈن ٹیمپل، بھارت

امرتسر میں قائم گولڈن ٹیمپل بھی اپنی مثال آپ ہے۔ جہاں دنیا بھر سے سکھ افراد بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کی راہداریاں ماربل سے بنی ہیں، جب کہ اس ٹیمپل پر سونے کے پانی سے بھی کام کیا گیا ہے، دن کی روشنی میں سونے کے بنے اس مندر کے نقش و نگار سونے کی طرح چمکتے ہیں۔ صرف سکھ ہی نہیں دیگر مذاہب کے لوگ بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبا روزانہ 1 لاکھ افراد یہاں آتے ہیں، جہاں لوگوں کو مفت کھانا بھی دیا جاتا ہے۔

دوہانے اسٹریٹ، ہنگری

اس کا شمار یورپ کی بڑی عبادت گاہوں میں ہوتا ہے، جہاں ایک وقت میں 3000 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس عبادت گاہ سے ملحقہ یہودیوں کی یادگار اور عجائب خانہ بھی قائم ہے۔

سینٹ پیٹرز بیسیلیکا، ویٹی کن سٹی

عیسائوں کی سب سے بڑی اور مرکزی عبادت گاہ بھی روم میں قائم ہے، جو ویٹیکن سینٹ پیٹرز بیسیلیکا کے نام سے معروف ہے۔

چرچ کی تعمیر چوتھی صدی عیسوی میں شروع ہوئی۔16 ویں صدی میں مائیکل اینجلو نے سینٹ پیٹرز کے گرجا کا گنبد ڈیزائن کرنے سے پہلے اس کا باقاعدہ مطالعہ کیا۔ دنیا کی سب سے چھوٹی خود مختار ریاست اور پوپ کا مسکن ویٹی کن سٹی روم شہر کے وسط میں واقع ہے۔ یہیں وہ جگہ ہے جہاں مائیکل اینجلو نے چھتوں اور دیواروں پر بائبل کی آیات کو تصویروں کی زبان دی ہے۔قدیم روما اور نشاۃ ثانیہ کے خوبصورت فن تعمیر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سیاح ایک مرتبہ رات کو شہر کے تاریخی حصوں کا چکر ضرور لگائیں کیونکہ رات میں اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔

ویٹی کن سٹی میں سینٹ پیٹر چرچ کی سجاوٹ میں منوں سونا استعمال کیا گیا ہے۔ سینٹ پیٹر یسوع مسیح کے پہلے حواری کہلائے جاتے ہیں۔ یہ عبادت گاہ اسی نسبت سے سینٹ پیٹر فورم کہلاتی ہے۔تمام بڑے پوپ اسی تہہ خانے میں دفن کئے جاتے ہیں۔

کوٹو کو، جاپان

یہ 13 ویں صدی میں قائم کیا گیا بدھ مٹ کا ٹیمپل کاما کورا میں واقع ہے۔ جہاں کانسی کا ایک بہت بڑا بدھا کا مجسمہ اس کے مرکز میں نصب ہے۔ یہ مجسمہ 43.8 فٹ لمبا ہے۔ اس مجسمے کے بارے میں یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ سال 1248 میں طوفان کی تباہی کاریوں کے باعث لکڑی سے بنا مجسمہ تباہ ہوگیا تھا، جس کے بعد دوبارہ کانسی کا مجسمہ بنا کر یہاں نصب کیا گیا۔

باتو کے غار، ملائیشیا

پہاڑی سلسلے پر قائم باتو کے غار ہندووں کی مقدس عبادت گاہوں میں سے ایک ہے۔ جو زمین سے 140 فٹ بلند ہیں۔ اس غار تک پہچنے کے لیے پہاڑ کی ڈھلوان پہ 272 سیڑھیاں بنائی گئیں تاکہ زائرین آسانی سے غار کے اندر مندر تک جاسکیں۔ اس کے ساتھ ہی موروگن کا ایک 140 فٹ لمبا ایک مجسمہ بنایا گیا، جو سیاحوں کو دور سے ہی اپنی جانب توجہ مبذول کرواتا ہے۔

اس 100 میٹر سے زائد بلندی پہ سیڑھیاں چڑھنا ایک ایڈونچر سے کم نہیں ہے۔ غار کے اندر داخل ہوں تو ایک ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں بندروں کی بہتات ہے، لیکن وہ سیاحوں کو کچھ نہیں کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ ملائیشیا کی تیسری بڑی کمیونٹی تامل ہندوؤں پر مشتمل ہے، جو اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مسجد حسن دوئم، مراکش

خوبصورت اور فن تعمیر کا اعلی نمونہ مسجد حسن دوئم مراکش کے شہر کاسابلانکا میں واقع ہے۔ اس مسجد کا ڈیزائن فرانسیسی ماہر تعمیرات مائیکل پنیسو نے تیار کیا۔ اس نے مسجد کے ڈیزائن کی تیاری میں اسلامی فن تعمیر سے مدد لی۔ مسجد میں ایک لاکھ سے زائد نمازیوں کی گنجائش ہے۔

یہ دنیا کی ساتویں بڑی مسجد ہے۔ اس کی تعمیر پر 80 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی۔ اس مسجد کا مینار دنیا کا سب سے بلند مینار ہے، جس کی بلندی 210 میٹر(689 فٹ) ہے۔ اس مسجد کی تعمیر اس طرح کی گئی ہے کہ اس کا نصف حصہ سمندر سے حاصل کی گئی زمین پر اور نصف حصہ بحر اوقیانوس کی سطح پر ہے۔ اس کے فرش کا ایک حصہ شیشے کا ہے جہاں سے سمندر کا پانی دکھائی دیتا ہے۔

انڈونیشیا، بوروبودر مندر

انڈونیشیا کے بوروبودر مندر تقریب آٹھ یا نو صدی میں تعمیر کیے گئے۔ اس مندر کی دیواروں پر مجسمے بڑی تعداد میں کنندہ ہیں۔ یہ مندر مذہبی تعلیمات کے پھیلاؤ کے لئے اہم ثابت ہوئے ہیں۔ جاوا میں قائم یہ مندر دنیا کا سب سے بڑا مندر تصور کیا جاتا ہے۔ جہاں 72 بڑے بدھا کے مجسمے اور 500 کے قریب چھوٹے بدھا کے مجسمے نصب ہیں۔

شیخ زاید گرینڈ مسجد، یو اے ای

ابو ظہبی میں قائم شیخ زاید مسجد میں متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا دستر خوان سجایا جاتا ہے، جہاں 35 ہزار سے زائد افراد کیلئے کھانے پینے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ یہ مسجد 1996 سے 2007 کے درمیان تعمیر کی گئی۔ اس مسجد کے ڈیزائن کو فارسی، مغل اور سکندر اعظم کے دور کی تعمیر سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔ یہاں ایک وقت میں 40 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

اس مسجد کے مرکزی ہال کے قالین کی تعمیر کیلئے دو سال کا عرصہ لگا۔ اس قالین کا وزن 35 ٹن ہے۔

واٹ رانگ ، تھائی لینڈ

اس مندر کو سال 1997 میں تعمیر کیا گیا۔

ہال گریمور، آئس لینڈ

اس چرچ کو 1945 سے 1986 کے درمیان تعمیر کیا گیا۔ آئس لینڈ کے بلند ترین عمارت میں شمار ہونے والا یہ چرچ 244 فٹ بلند ہے۔

سلطان مسجد، ترکی

اپنی طرز تعمیر کی وجہ سے اسے نیلی مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔ سولہویں صدی میں تعمیر کی گئی سلطان احمد مسجد چھ میناروں والی ترکی کی واحد مسجد ہے۔ مسجد کی تعمیر کے بعد جب سلطان کو علم ہوا کہ مسجد کے 6 مینار ہیں تو سلطان نے برہمی کا اظہار کیا کیونکہ اس وقت صرف مسجد الحرام کے 6 مینار تھے۔

مسجد کی تعمیر مکمل ہوچکی تھی، لہذا سلطان کے حکم پر مسجد الحرام کی انفرادیت ، یکتائی اور مرکزیت کے سبب اس کے میناروں میں ایک اور مینار کا اضافہ کر دیا گیا۔ سلطان احمد مسجد کو رنگ کی وجہ سے نیلی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔

مسجد کے مرکزی کمرے پر کئی گنبد بنے ہوئے ہیں ۔ مسجد کی اندرونی دیواروں پر آیات مقدسہ کی خطاطی کی گئی ہے ۔ سلطان احمد مسجد کی خاص بات یہ ہے کہ نماز جمعہ کے خطبے کے موقع پر امام کو مسجد کے ہر کونے اور جگہ سے باآسانی دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہاں مقامی باشندوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد بارگاہ الہی میں سر بسجود ہوتی ہے۔

رات کے وقت رنگین قمقمے اس شاندار مسجد کی عظمت اور جاہ و جلال کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ مسجد کے اندرونی حصے میں زیریں دیواروں کو ہاتھوں سے تیار کردہ 20 ہزار ٹائلوں سے مزین کیا گیا ہے۔

کنول مندر، بھارت

یہ لوٹس ٹیمپل کے نام سے بھی مشہور ہے۔ ابھرتے سورج کی روشنی میں یہ ’لوٹس ٹیمپل‘ یعنی کنول کے پھول کا مندر دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بہائی مذہب کے پیروکاروں کی عبادت گاہ ہے۔

مسجد سلطان عمر علی

سلطان عمر علی سیف الدین مسجد سلطنت برونائی کے دار الحکومت بندری سری بیگوان میں واقع شاہی مسجد ہے۔ یہ خطۂ ایشیا بحر الکاہل کی خوبصورت ترین مساجد اور ملک کے معروف سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد برونائی کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔

یہ مسجد برونائی کے 28 ویں سلطان سے موسوم ہے۔ اس کی تعمیر 1958ء میں مکمل ہوئی اور یہ جدید اسلامی طرز تعمیر کا شاندار نمونہ سمجھی جاتی ہے جس پر اسلامی اور اطالوی طرز تعمیر کی گہری چھاپ ہے۔ یہ مسجد دریائے برونائی کے کناروں پر واقع ایک مصنوعی تالاب پر تعمیر کی گئی۔ مسجد سنگ مرمر کے میناروں، سنہرے گنبدوں، صحنوں اور سر سبز باغات پر مشتمل ہے۔

مسجد کا مرکزی گنبد پر خالص سونے سے کام کیا گیا ہے۔ مسجد 52 میٹر بلندی پر واقع ہے اور بندر سری بیگوان شہر کے کسی بھی حصے سے با آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ میناروں میں جدید برقی سیڑھیاں نصب ہیں جو اوپر جانے کے کام آتی ہیں۔ مسجد کے میناروں سے شہر کا طائرانہ منظر قابل دید ہے۔

MOSQUE

ISLAM

Buddhist

Tabool ads will show in this div