امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پاکستان پہنچ گئے

پاکستانی قیادت کو اعتماد میں لینے اور مشاورت کیلئے افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اہم دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔۔ اسلام آباد آمد پر نمائندہ خصوصی نے وزیر خارجہ شاہ محمود اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقاتیں کیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد خصوصی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے۔ پاکستان آمد پر سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔

زلمے خلیل زاد نے جمعہ کے روز وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کیے۔ مذاکرات میں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ بات چیت میں وفود کے درمیان افغان امن عمل اور خطے کی صورت پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ امریکی وفد نے دوحہ میں طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔

بعد ازاں زلمے خلیل زاد نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی۔ نمائندہ خصوصی نے پاکستانی حکومت کو افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغان مفاہمتی عمل میں نیک نیتی سے تعاون جاری رکھیں گے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے انٹرا افغان مذاکرات سے متعلق پیشرفت کو سراہا اور کہا کہ افغانیوں کےدرمیان مذاکرات کا انعقاد افغان مفاہمتی عمل کا اہم جزو ہے، افغانستان میں امن واستحکام پاکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ پاکستان،افغانستان میں سیاسی مصالحت کیلئےنیک نیتی سےتعاون جاری رکھےگا۔ اپنے دورے امریکی نمائندہ خصوصی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔

 

پاکستان آمد سے قبل نمائندہ خصوصی نے قندھار کا بھی دورہ کیا تھا، جہاں اہم قبائلی عمائدین سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔

قبل ازیں کابل کے صدارتی محل میں ہونے والی ملاقات میں افغانستان کے حکام اورسیاستدانوں نے افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ اس طریقہ کار کا جائزہ لیا جو افغانستان میں گزشتہ 17 سالوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنایا جائے گا۔

 

افغان صدر اشرف غنی کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں صدر کے علاوہ افغانستان میں امریکا کے سفیرجان آر باس، نیٹو کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر، محمد سرور دانش، حامد کرزئی، عبدالرب رؤف سیاف، انجینیر گلبدین حکمتیار، صلاح الدین ربانی، محمد کریم خلیلی، محمد محقق، عبدالرؤف ابراہیمی اور عمر داؤد زئی سمیت دیگر نے شرکت کی۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اس بات کے خواہش مند ہیں کہ افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان دوحہ قطر میں ہونے والی ملاقات گرانڈ جرگے کے بعد ہو جو افغان حکومت نے طلب کیا ہے۔ افغان حکومت نے افغانستان میں گرانڈ جرگہ 29 اپریل کو طلب کر رکھا ہے۔ اشرف غنی کے نمائندہ خصوصی عمر داؤد زئی کے مطابق اس جرگے میں شرکت کے لیے طالبان کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

 

کابل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں افغانستان کے سیاستدانوں نے اصرار کیا ہے کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ سیاستدانوں کی اکثریت دوحہ ملاقات میں رتی برابر تاخیر کرنے کی حامی نہیں ہے۔ افغان صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے زور دیا کہ ہمیں ہر قیمت پر دوحہ مذاکرات کی حمایت کرنی چاہیے اور امریکی کوششوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ حامد کرزئی کی جانب سے اپنائے جانے والے مؤقف کو ان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے۔

TALIBAN

ASHRAF GHANI

grand jirga

ZALMAY KHALILZAD

Afghan Elections 2019

Foreign Office Pakistan

Tabool ads will show in this div