وزیراعظم نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کے معاملے پر 8 اپریل کو اجلاس طلب کرلیا

ملک میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کیلئے مارکیٹ پرائس کمیٹیوں کو متحرک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے پیر 8 اپریل کو خصوصی اجلاس بھی طلب کر لیا۔

مسئلے کا حل نکالنے کیلئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

کمیٹی کا ملک بھر میں سستا بازار، اتوار بازار اور فئیر پرائس شاپس کی تعداد ​بڑھانے اور مربوط مارکیٹ میکنزم متعارف کرانے ​پر اتفاق کیا گیا جبکہ باسی ہو جانے والی اور خراب نہ ہونے والی 28 ضروری اشیائے خوراک کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ باسی ہو جانے والی اشیائے خوراک بالخصوص ٹماٹر، پیاز، چنا اور دالوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ موسمی تبدیلیاں ہیں جو اب ختم ہوچکی ہے۔ مارچ 2019ء میں مسلسل دو ہفتے تک قیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی)، جو کچن میں استعمال ہونے والی اشیائے ضروریہ کا احاطہ کرتا ہے، میں بڑی کمی دیکھنے میں ملی جس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمتوں میں اب کمی آرہی ہیں۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ایک لاکھ ٹن یوریا درآمد کرنے کی اجازت

کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے اور رسد میں کمی جیسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ماہانہ بیٹھک باقاعدگی سے بلانے کا فیصلہ کیا۔

ضروری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تین سے چھ ماہ میں مضبوط طریقہ کار وضع کیا جائے گا جبکہ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور کارٹلائزیشن کے سدباب کیلئے قوانین کا جائزہ لیا جائے گا۔

یوٹیلیٹی اسٹورز نے یقین دہانی کرائی کہ صارفین کو مناسب رعایتی قیمت پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کیلئے رمضان پیکج پر مکمل عمل درآمد کیا جائیگا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے​ بھی کھانے پینے کی اشیاء اور دواؤں کی رسد اور قیمتوں کا جائزہ لینے کیلئے پیر کو خصوصی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں متعلقہ وزارتیں اس حوالے سے قلیل اور وسط مدتی پالیسی سفارشات کے ساتھ ڈھانچہ جاتی تجاویز بھی پیش کریں گی۔

ASAD UMAR

Utility Stores

PM IMRAN KHAN

Sasta Bazar

Tabool ads will show in this div