وارنٹ گرفتاری یا بیرون ملک علاج، پرویز مشرف کا فیصلہ عدالت کریگی، سعید الزماں

Nov 30, -0001

ویب ڈیسک


اسلام آباد : جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں عدالت پرویز مشرف کو علاج کیلئے باہر بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ کرے گی، عدالت اپنا میڈیکل بورڈ بناکر نئی رپورٹ بھی بنوا سکتی ہے، خصوصی عدالت کے ججز کے تقرر کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں، یہ وفاق کی ذمہ داری ہے۔


ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی نے کہا ہے کہ میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں عدالت کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں، اگر عدالت نے سمجھا کہ پرویز مشرف کو لاحق بیماریاں سنگین نہیں تو ان کے وارنٹ بھی جاری کرسکتی ہے جبکہ موجودہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اپنا بورڈ تشکیل دے کر میڈیکل رپورٹ بنواسکتی ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ میری رائے میں پرویز مشرف کو دل کی بیماری نہیں ذہنی دباؤ کا سامنا ہے، قانون کے مطابق خصوصی عدالت کے ججز کا تقرر وفاق کو کرنا چاہئے تھا سپریم کورٹ کے پاس اختیار نہیں کہ خصوصی عدالت کے ججز کا تقرر کرے۔


وہ کہتے ہیں کہ اصل جرم 12 اکتوبر 1999ء کو ہوا جب منتختب وزیراعظم کا تختہ الٹ دیا گیا، اٹھارویں ترمیم نے 12 اکتوبر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر ختم کردیا تھا تاہم 12 اکتوبر سے کارروائی کا آغاز کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کہاں سے ہو اس کا فیصلہ کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔


پیپلزپارٹی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پرویز مشرف بیمار ہیں تاہم لوگ سمجھ رہے ہیں کہ پرویز مشرف عدالتوں میں پیش ہونے سے کترا رہے ہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کو صدر ہونے کے باعث استثنیٰ حاصل تھا، جن کیسز میں انہیں بلایا جارہا ہے اس کے مرکزی کردار رہا ہوچکے ہیں، ان کیسز میں کچھ نہیں ہوگا، پرویز مشرف اور آصف زرداری کا ٹرائل شفاف ہونا چاہئے، سیاسی مقدمات میں شفافیت ختم ہوجاتی ہے۔


وہ کہتے ہیں کہ ریٹائر ہونے والے ججز آج بھی سرکاری مکانات میں رہ رہے ہیں، مارشل لاء پر عمل کرنے والے عبدالقادر بلوچ موجودہ کابینہ میں وزیر ہیں، نواز حکومت میں شامل 60، 70 افراد کو بچانے کیلئے 12 اکتوبر کو نظر انداز کیا جارہا ہے، مارشل لاء کا راستھ روکنے کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ فیئر ٹرائل کیا جائے۔


معروف تجزیہ کار ہارون الرشید کہتے ہیں کہ پرویز مشرف ایسے شخص نہیں کہ عدالتوں میں جانے سے گھبرا جائیں، ان کے وکیل کارروائی کو طول دینے کیلئے سابق صدر کو پیش ہونے سے روک رہے ہیں، پرویز مشرف بہتر علاج اور سیکیورٹی معاملات کو مدنظر رکھ کر اے ایف آئی سی میں منتقل ہوئے۔


انہوں نے مزید کہا کہ پرویز مشرف کا عدالتوں میں پیش نہ ہونا کوئی جرم نہیں، مارشل لاء سے فائدہ اٹھانے والے آج وزیراعظم ہیں، پرویز مشرف کو عوامی ہمدردی کا زیادہ فائدہ ہوگا، پرویز مشرف کا معاملہ ججز پر چھوڑ دینا چاہئے۔


ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق طاقتوروں سمیت سب پر ہونا چاہئے، 1958ء سے 12 اکتوبر تک سب کا ٹرائل ہونا چاہئے، ہمیں نیلسن منڈیلا کے  ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن فارمولے پر عمل کرنا ہوگا۔


خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف قانون کی حکمرانی چاہتی ہے، کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھنا چاہئے، امن کیلئے عدل کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔


وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی حتمی تجویز پر عدالت پرویز مشرف کو بیرون ملک علاج کیلئے جانے سے نہیں روک سکتی، این آر او 3 کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں پہلے بھی این آر او کا سلسلہ چلتا رہا ہے، نواز شریف اور آصف زرداری بھی باہر جاچکے ہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ قانون توڑنے میں جو بھی ملوث ہے اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا ضروری ہے، چاہے 12 اکتوبر ہو یا اس سے بھی پہلے کی کوئی تاریخ، شخصیات اہم نہیں قانون کی بالادستی کیلئے ضروری ہے کہ کم از کم مثال قائم کردی جائے۔ سماء

کا

ملک

فیصلہ

Thar

tariff

crescent

defamation

jud

Tabool ads will show in this div