شرمیلا فاروقی کا وزیراعظم عمران خان سے سوال

اتحادي جماعتوں کے مطالبے پر وزيراعظم نے بينظير بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبديل کرنے کا اعلان کیا، جس پر پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔

چیئرمین پی پی بلاول بھٹو والدہ کے نام پر جاري پروگرام کے نام کي ممکنہ تبديلي کو سازش قرار دے چکے ہیں تو تازہ ٹویٹ میں پی پی رہنما شرمیلا فاروقی نے بھی وزیراعظم عمران خان کے سامنے اس حوالے سے ایک سوال رکھ ڈالا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرشرمیلا فاروقی نے لکھا کہ ’’ عمران خان کو کیسا محسوس ہو گا اگر اگلی حکومت شوکت خانم اسپتال سے ان کی والدہ کا نام الگ کردے؟  اخلاقی اور قانونی طور پر وزیراعظم اپنی سمجھ بوجھ کھو چکے ہیں ‘‘۔

یاد رہے کہ شوکت خانم میموریل اسپتال کینسر کے مریضوں کیلئے پاکستان کا سب سے بڑا پرائیویٹ اسپتال ہے جو سال 1994 میں عمران خان نے لاہور میں قائم کیا تھا۔

بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تبدیلی کا اعلان وزیراعظم نے اپنی اتحادی جماعتوں اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما مخدوم محسن کے مطالبے پر 2 روز قبل گھوٹکی میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران کیا۔

پیپلزپارٹی حکومت کی جانب سے 2008 شروع کیا جانے والے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام سال 2007 میں قاتلانہ حملے میں شہید ہونے والی محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے رکھا گیا تھا۔

اس سے قبل بلاول بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت پہلے نام تبديل کرے گي پھر یہ پروگرام بند کرديا جائے گا۔ نام کي تبديلي کي باتيں سازش ہيں ۔ بلاول بھٹو زرداري کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ٹرين مارچ نہيں کيا بلکہ صرف اپنے گھر جا رہے تھےليکن عمران خان سفر سے بھي خوفزدہ ہوگئے۔

Shaukat Khanum Hospital

benazir income support program

Sharmila Faruqi

PM IMRAN KHAN

Benazirincomesupportprogram

Tabool ads will show in this div