میرے دشمن تیرے یہ ناپاک ارادے

ویب ایڈیٹر  :

 

مرے دشمن میرا حوصلہ ہر ایک سازش سے بڑا ہے
تیری تصویر کا وہ رخ جسے تو نے چھپایا ہے
تیرے ا یما کے پردے میں فساد ارض کی کوئی کہانی ہے
جسے معصوم ذہنوں کو سناتا ہے
تو ان کو ورغلاتا ہے
کہاں کی یہ مسلمانی ہے ؟
کیسا دین ہے تیرا ؟
کے جسکی آڑ لے کر تو مرے معصوم بچوں کو دھماکے میں اڑاتا ہے
نبی کا نام لیتا ہے
ا ور اسکے دام لیتا ہے
مرے دشمن !
شریعت نام لے کر جو تو ظلمت عام کرتا ہے
شرع یہ کب سکھاتی ہے
جو تو طاقت سے دہشت سے اسی پیغا م کا پرچار کرتا ہے
کتابیں اسکی بارود اڑھا دو
جلادو درسگاہیں اور درگاہیں گرا دو
تو کس اسلام کا اقرار کرتا ہے
تمھارے جہل نے شائد خبریہ دی نہیں تم کو
کے مذہب تو اصل میں راستہ دینے کو کہتے ہیں
مرے دشمن
مرے آہن صفت بیٹے تیری تاریکیاں جب چاک کردینگے
تو اک روشن صبح ہوگی
یہاں جو اگہی کا نور اترے گا
ترقی کے نئے خوابوں کو بھر کر اپنی آنکھوں میں
شمالی مغربی سرحد سے پاکستان ابھرے گا
مرے دشمن
تیری یہ سب تبا ہی ، آگ ور بارود کے منظر بھی اب
اپنا فسوں باقی نہیں رکھتے
مرے شہروں کو جن سے راکھ کرتا تھا
تیرے بمبار بھی اپنا جنون باقی نہیں رکھتے

مرے آنگن کے جن پھولوں کو تو نے توڑنا چاہا
تیرے خودکش کے راستہ میں فصیلیں بن کھڑے ہیں
روایت کے پہاڑوں سے جو سورج روکنا چاہا

وہیں سے میرے کوہ پیما چوٹیوں کو چل پڑے ہیں
مرے دشمن
میری مٹی میں آمیزش ہے خوابوں کی
یہاں تعبیر کی جو فصل اگتی ہے
اسے پیہم لہو کی آبیاری ہے
میری بستی کے لوگوں کا بس اک یہی المیہ تو ہے
کے انکو وطن کی مٹی ہر ایک رشتے سے پیاری ہے
مرے دشمن
تیرے ناپاک راستے میں
ادھورا ہے کے پورا ہے
ہر ایک پیکر کھڑا ہے
مرے دشمن میرا حوصلہ ہر ایک سازش سے بڑا ہے

hc

Tabool ads will show in this div