دادو، چوری کے الزام میں تشدد و تذلیل کا نشانہ بننے والی خاتون ضمانت پر رہا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/03/Dadu-Women-Torture-26-03.mp4"][/video]

دادو کي تحصیل جوہی میں چوری کے الزام میں تشدد اور تذلیل کا نشانہ بننے والی گرفتار خاتون کو عدالت نے شخصی ضمانت پر رہا کر دیا۔

گزشتہ روز تحصیل جوھی کے بخاری محلہ میں علی اصغر غوری کے گھر میں مبینہ چوری کے الزام میں ارشاد عرف عاصمہ نامی خاتون کو پکڑ کر تشدد و تذلیل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پولیس نے خاتون کو فرسٹ اینڈ جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے 50 ہزار کی شخصی ضمانت پر خاتون کو رہا کرکے والدہ کے حوالے کیا۔

آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لے کر ایس ایس پی دادو سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔ آئی جی سندھ کے نوٹس پر علی اصغر کی مدعیت میں خاتون ارشاد عرف عاصمہ ببر پر جوہی تھانہ پر چوری کا مقدمہ درج کیا گیا۔

دوسری جانب خاتون پر تشدد اور تذلیل کرنے پر جوھی میں سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے مخدوم بلاول پارک سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

تحصیل جوہی میں شہري علی اصغر نے الزام لگايا تھا کہ دو عورتوں نے اس کے گھر ميں  چوری کي، شہري کے مطابق ایک خاتون ڈیڑھ تولے سونے کے زیورات چوری کرکے فرار ہوگئی۔

موبائل فوٹیج میں اے ایس آئی رحمت اللہ میمن خاتون پر تشدد ہوتے ديکھتا رہا تاہم بعد ميں جوہی پولیس نے خاتون کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا۔

ایس ایس پی دادو نے ڈیوٹی افسر اے ایس آئی رحمت اللہ میمن کو معطل کرکے لیڈی سب انسپکٹر بینظیر جمالی کو تحقيقاتي افسر مقرر کر دیا ہے۔

woman torture

Theft charges

Tabool ads will show in this div