بھارت کیساتھ کشیدہ صورتحال میں پاکستانی کردارقابل تعریف ہے،یورپی یونین

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان معاشی اور سماجی شعبوں میں تعلقات کے فروغ اور اسٹریٹجک تعلقات پر اتفاق کیا گیا ہے، جب کہ یورپی یونین نے پاکستان کی حکومتی ترجیحات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے غربت کے خاتمے میں تعاون کی یقین دہانی، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات کی حمایت اور بھارت سے کشیدہ صورت حال میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

اسلام آباد میں مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیڈریکا مورگینی کے ساتھ انتہائی مثبت اور مفید بات چیت ہوئی، باہمی تعلقات اور تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، یورپی یونین کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، گورننس اور قانونی امور پر بات چیت ہوئی۔ یورپی یونین اور تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مذاکرات میں پاکستان یورپی یونین تعاون کے فروغ پر بات ہوئی۔ یورپی یونین سے نیشنل ایکشن پلان، انتہا پسند اور مختلف شعبوں میں ملکر کام کرنے پر بات چیت ہوئی۔ مذاکرات کے دوران افغانستان امن عمل کے حوالہ سے بھی گفتگو ہوئی، یورپی یونین کو افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار سے آگاہ کیا، یورپی یونین سے بھارت کے ساتھ موجودہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

 

انہوں نے کہا کہ بھارت سے تمام تصفیہ طلب امور صرف مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں، پاک بھارت جنگ سے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن نہیں، پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی کیلئے اقدامات کئے، پڑوسی ملک ایران سے تعلقات پاکستان کیلئے اہم ہیں۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے بتایا کہ یورپی یونین سے ویزہ، سیاحت اور دیگر امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

 

پریس کانفرنس سے خطاب میں شاہ محمود کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ملکوں سے برآمدات میں اضافہ اور تجارت بڑھ رہی ہے، یورپی یونین کی طرف سے دی گئی رعائیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، حکومت برآمدات کے فروغ اور تجارتی خسارے میں کمی کیلئے پرعزم ہے، جی ایس پی پلس سٹیٹس ملنے سے پاکستان کی برآمدات دگنا ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اسلامو فوبیا کا پھیلنا انتہائی تشویشناک ہے، نیوزی لینڈ واقعہ میں 9 پاکستانی بھی شہید ہوئے، نیوزی لینڈ واقعہ پر ان کی وزیراعظم کے اقدامات قابل ستائش ہیں، انہوں نے ثابت کیا کہ مشکل حالات سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔

اس موقع پر یورپی یونین کی امور خارجہ کی سربراہ فیڈریکا مورگینی نے کہا کہ پاکستان میں استقبال اور مثبت بات چیت پر خوشی ہے۔ انہوں نے کہاکہ غربت کے خاتمے اور دیگر حکومتی ترجیحات میں پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے، پاکستان کو یورپی مارکیٹوں میں ہرممکن رسائی فراہم کر رہے ہیں، پاکستان کی حکومتی ترجیحات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو گزشتہ کئی دہائیوں سے پناہ دینا قابل تحسین ہے، بھارت سے کشیدہ صورت حال میں کمی کیلئے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے، پاکستان نے علاقائی امن و استحکام کیلئے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کئے۔ انہوں نے کہاکہ یورپی یونین انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔ نیوزی لینڈ واقعہ میں جاں بحق پاکستانیوں کے لواحقین سے ہمدردی ہے، دنیا میں کسی بھی جگہ عبادت گاہوں پر حملہ انتہائی قابل افسوس ہے، دنیا میں اسلامو فوبیا کا پھیلنا سب کیلئے خطرہ ہے، تمام معاشروں کو ان خطرات سے بچانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

 

فیڈریکا مورگینی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین نے ترکی میں ہونے والے حالیہ او آئی سی اجلاس میں بھی اسلامو فوبیا پر بات کی۔ اسلامو فوبیا سمیت کسی بھی مذہب پر حملے ناقابل برداشت ہیں، دنیا میں کسی کو حق نہیں کہ کسی مذہب سے تعلقات رکھنے والوں کو نقصان پہنچائیں، یورپی یونین دنیا میں مثبت اقدار کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک مذاکرات کا یہ چوتھا دور تھا، مذاکرات میں دونوں فریقین کے مابین پاکستان سے مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔

FOREIGN MINISTER

EUROPEAN UNION

Federica Mogherini

SHAH MAHMOOD QURAISHI

Tabool ads will show in this div