سندھ سےہندو لڑکیوں کامبینہ اغوا،وزیراعظم کا نوٹس،لڑکیوں نےتحفظ کےلیےعدالت میں درخواست دائر کردی

گھوٹکی کے شہر ڈہرکی میں دو ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا ہے۔ اغواء ہونے والی لڑکیوں نے بہاولپور کی عدالت میں تحفظ کے لئے درخواست دائر کردی ہے۔ لڑکیوں کے مبینہ اغوا کے حوالے سے 6 گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

پولیس کے مطابق ڈہرکی تھانے میں دونوں لڑکیوں کے مبینہ اغواء کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا تاہم 22 مارچ کو دونوں لڑکیوں نے منظر عام پر آکر نکاح کرلیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں نے میڈیا کے سامنے اپنی مرضی سے نکاح کا اعتراف کیا تھا۔

دوسری جانب خان پور میں پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زیر حراست شخص نے مبینہ طور پر نکاح میں مدد کی تھی۔ بتایا جارہا ہے کہ حراست میں لیے گئے شخص سنی تحریک پنجاب کے جنرل سیکرٹری جواد حسن گل ہیں۔ پولیس نے جواد حسن گل کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، علامہ قاری بشیر احمد نے نو مسلم لڑکیوں کا خان پور میں نکاح کرایا تھا،تقریب نکاح میں جواد حسن گل بھی شریک ہوئےتھے۔

لڑکیوں کے ورثاء نے سندھ میں اغواء کا مقدمہ درج کرا رکھا ہے،لڑکیوں کے ورثاء نے سندھ پنجاب بارڈر پر احتجاج بھی کیا تھا۔ مسلمان ہونے والی روینا کا نام آسیہ بی بی جبکہ رینا کا نام شازیہ رکھا گیا ہے۔ روینا کا نکاح صفدر جبکہ رینا کا برکت سے ہوا ہے۔

 اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے 2 نوعمرہندو لڑکیوں کے اغواء کا نوٹس لیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ سندھ سے 2 نوعمر ہندو لڑکیوں کو اغواء کے بعد رحیم یار خان متقل کیے جانے کی اطلاعات پر وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو فوری تحقیقات کی ہدایات دی ہیں۔

وزیراطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے فوری ہدایت جاری کی ہے کہ اگر ایسا ہے تو دونوں بچیوں کو بازیاب کرایا جائے۔ وزیراعظم نے سندھ اور پنجاب حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں اور سندہ حکومت ایسے واقعات کے تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق اقلیتوں جھنڈے کا سفید رنگ اورہمیں عزیز یں ، پرچم کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی تھی جس میں سندھی بولنے والا ایک غریب شخص کسی تھانے کے احاطے میں بیٹھا اپنی بچیوں کی بازیابی کیلئے احتجاج کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ مجھے گولی مار دو لیکن میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔

PTI

FAWAD CHAUDARY

PM IMRAN KHAN

Hindu Girls

Tabool ads will show in this div