مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، گولیوں کا فرانزک تاحال نا مکمل

کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کو تین روز گزر جانے کے باوجود سسٹم اپ گريڈ نہ ہونے کے باعث گولیوں کے خولوں کا فرانزک نہ ہوسکا۔

حکام کے مطابق وقوعہ سے ملنے والی گوليوں کا فرانزک مينول طريقے سے نہيں کيا جائے گا، ورژن اپ ڈيٹ ہونے ميں مزيد دو دن لگيں گے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ایکوریسی کیلیے ڈیجیٹل بلٹ ٹریکجٹری تیار کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جمعہ کے روز 22 مارچ کو کراچی کی مصروف ترین نیپا چورنگی پر دارالعلوم کراچی کی 2 گاڑیوں پر موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے فائرنگ کی تھی۔ قاتلانہ حملے میں ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی بال بال بچے۔ گاڑی میں ان کے ہمراہ اہلیہ اور دو پوتے بھی تھے۔

ویڈیو : ایک نہیں دو بار حملہ ہوا، مفتی تقی عثمانی نے تفصیلات بتادیں

حملے میں 2 سیکیورٹی گارڈ شہید، جب کہ بیت المکرم مسجد کے خطیب مولانا عامر شہاب اور مفتی تقی عثمانی کا ڈرائیور زخمی ہوا۔ دارالعلوم کراچی کے سربراہ مفتی تقی عثمانی معمول کے مطابق بیت المکرم مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کیلئے جارہے تھے۔

 

ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کا واقعہ کے بعد میڈیا سے گفت گو میں کہنا تھا کہ دشمنوں کو کراچی کا امن کھٹک رہا ہے۔

مفتی تقی عثمانی پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی

موصول ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق نیپا چورنگی کے قریب گلشن پُل اترنے کے بعد مفتی عامر شہاب کی آگے جانیوالی گاڑی کی وجہ سے راستہ بلاک ہوا، تو موٹر سائیکل سوار 2 حملہ آوروں نے گاڑی پر فائرنگ کی، جب کہ پیچھے بھی 2 موٹر سائیکل سوار فوٹیج میں نظر آرہے ہیں۔

KARACHI OPERATION

NIPA

FORENSIC

MUFTI TAQI USMANI

deadly attack

Darul uloom

Bullets Shell

Tabool ads will show in this div