لندن،10لاکھ افراد کا بریگزیٹ منسوخ کرکے دوبار ریفرنڈم کا مطالبہ

لندن کی سڑکوں پر 10 لاکھ افراد نے احتجاج کرکے بریگزیٹ کو منسوخ کرکے دوبارہ نئے عوامی ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق برطانوی دارالحکومت لندن میں بریگزٹ کے خلاف لاکھوں شہریوں نے احتجاجی مارچ کيا۔ مظاہرین برطانیہ کے یورپی یونین سے آئندہ اخراج کی مخالفت کرتے ہوئے ایک نئے عوامی ریفرنڈم کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وسطي لندن ميں لاکھوں افراد سڑکوں پرنکل آئے اور بريگزٹ کي مخالفت ميں نعرے بازي کي۔ مظاہرين نے بڑے بڑے بينرز اٹھا رکھے تھے جس پر برطانوي حکومت اپني سوچ تبديل کرے اور بريگزٹ کا فيصلہ عوام پر چھوڑا جائے کے نعرے درج تھے۔

 

مظاہرین کا کہنا تھا کہ "برطانيہ يورپي يونين سے نکلے يا نہ نکلے "، یہ بات برطانيہ والوں سے دوبارہ پوچھی جائے۔ کامیاب مظاہرے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کی چوک، چوراہوں اور گليوں ميں سر ہي سر نظر آئے۔ مظاہرہ کرنے والوں میں ميئر لندن صادق خان اور حزب اختلاف لیبر پارٹي کے نائب رہنما ٹام واٹسن بھي شامل تھے۔

 

واضح رہے کہ ساڑھے چار لاکھ سے زيادہ شہری نئے ریفرنڈم کیلئے پٹیشن پر بھي دستخط کر چکے ہیں۔ وزيراعظم ٹريزامے بريگزٹ معاہدہ دار العوام سے منظور کرانے ميں ناکام رہي ہيں۔ اس سے قبل سابق وزيراعظم ڈيوڈ کيمرون کو ريفرنڈم کا فيصلہ بريگزٹ کے حق ميں آنے پر استعفيٰ دينا پڑا تھا۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں بریگزٹ اب ایک ایسا موضوع بن چکا ہے، جو ممکنہ طور پر وزیر اعظم ٹریزا مے کی وزارت عظمیٰ کو بھی لے ڈوبے گا۔

ٹریزا مے دو مرتبہ پارلیمانی رائے شماری کے باوجود اپنے یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والے بریگزٹ معاہدے کو ابھی تک دارالعوام سے منظور نہیں کروا سکیں۔

EUROPEAN UNION

Theresa May

BREXIT

Anti-Brexit Rally

Tabool ads will show in this div