کریم اور اوبر کے کراچی ایئرپورٹ میں داخلے پر بدستور پابندی

سول ایوی ایشن اتھارٹی ( سی اے اے) نے کراچی ایئرپورٹ کے احاطے میں کریم اور اوبر پر پابندی سے متعلق سائن بورڈز تو ہٹا دیے ہیں مگر دونوں آن لائن ٹیکسی سروسز کے ایئرپورٹ میں داخلے پر پابندی برقرار ہے۔

سندھ حکومت نے دسمبر 2018 میں ’قانونی تقاضے‘ پورے نہ کرنے پر کریم اور اوبر کے ایئرپورٹ داخلے پر پابندی عائد کردی تھی مگر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تین ماہ گرزنے کے بعد ڈی آئی جی ٹریفک کی مداخلت پر بالاخر اس پابندی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔

مارچ کے آغاز میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئرپورٹ کے داخلی دروازوں پر سائن بورڈ نصب کرکے کہا تھا کہ کریم اور اوبر سندھ حکومت کے پاس رجسٹرڈ نہیں۔ اس وجہ سے دونوں کمپنیز کی ٹیکسیاں ایئرپورٹ میں داخل نہیں ہوسکتیں۔

مگر اس ہفتے ایئرپورٹ انتظامیہ نے مذکورہ سائن بورڈز ہٹا دیے ہیں کیوں کہ انتظامیہ کے لیے ایئرپورٹ آنے والی گاڑیوں میں کریم اور اوبر کی گاڑیوں کی پہچان مشکل تھی۔

 سول ایوی ایشن اتھارٹی کے پبلک ریلیشن افسر مجتبیٰ بیگ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ سائن بورڈ ہٹا دئے گئے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کریم اور اوبر پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوبر، کریم پر ’پابندی‘، حکومت ’پے پال‘ پر بھی یوٹرن لے سکتی ہے

انہوں نے کہا کہ دونوں آن لائن ٹیکسی کمپنیوں نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔ ایئرپورٹ میں داخلے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ان کو سندھ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس سلسلے میں دونوں کمپنیوں کو نوٹس ارسال کیے ہیں۔

دوسری جانب کریم اور اوبر کی ویب سائٹ اور ایپلی کیشن میں تاحال اس پابندی سے متعلق کوئی اپڈیٹ شامل نہیں کی گئی جس کا مطلب ہے کہ شہری بدستور ایئرپورٹ جانے کے لیے آن لائن ٹیکسی بک کروا سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ایئرپورٹ انتظامیہ گاڑی کو پہچان نہ لے۔

کریم کی ترجمان مدیحہ جاوید قریشی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ معاملہ حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے تاہم کمپنی کی جانب سے اپنے ڈرائیورز کو تاحال پابندی کے بارے میں کوئی پیغام جاری نہیں کیا گیا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ایک خاتون نے چلتی ہوئی ٹیکسی سے چھلانگ لگانے کے بعد ڈرائیور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس پر سندھ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ آن لائن ٹیکسی سروس پر پابندی عائد کریں گے۔ اس واقعہ میں قصور کس تھا یہ معمہ تاحال حل نہ ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیں: ہیکرز نے اوبر کے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا چوری کرلیا

اس واقعہ کے بعد سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا تھا کہ آن لائن ٹیکسی کمپنیوں کو گاڑی اور ڈرائیور کی مکمل معلومات حکومت کو فراہم کرنی چاہئے تاکہ حکومت اس بات کا اندازہ لگا لے کہ ان کے پاس دستاویزات مکمل ہیں کہ نہیں اور ڈرائیور کا کوئی کرمنل ریکارڈ تو موجود نہیں۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا تھا کہ جب اتنظامیہ کے پاس مکمل معلومات ہوں گی تو اس طرح کے واقعات کی تفتیش اور روک تھام میں مدد ملے گی۔

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ کراچی ایئرپورٹ کے علاوہ دیگر صوبوں میں کریم اور اوبر پر پابندی نہیں ہے۔

careem

ONLINE TAXI

Hide-hailing

Tabool ads will show in this div