بلاول اور آصف زرداری 2 گھنٹے کی تفتیش کے بعد واپس روانہ

سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرا دیا۔ دونوں رہنماوں نے 2 گھنٹے تک تفتیشی ٹیم کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا۔

نیب نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ اور پارک لین کمپنی سے متعلق تفتیش کے لیے دونوں کو آج طلب کیا تھا۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نیب ہیڈ کوارٹرز کی عمارت میں داخل ہوئے تو ان سے پانچ پانچ ارکان پر مشتمل نیب کی دو ٹیموں نے الگ الگ تفتیش کی اور تقریباً ایک گھنٹے سے زائد وقت تک سوال و جواب کیے گئے۔

ویڈیو: پارٹی کی کال پر جیالوں کا دھمال

تفتیش کے آغاز پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ان چيزوں کے بارے ميں ميں جانتا ہي نہيں، ان کيسز سے ميرا کوئي تعلق نہيں، کسي غير قانوني کام ميں ملوث نہيں رہا ہوں۔

زرداری،بلاول کی پیشی،جیالے کارکنوں اور اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی

آصف علی زرداری سے زرداری گروپ سے متعلق پوچھ گچھ کی گئی جب کہ بلاول بھٹو زرداری سے پارک لین کمپنی کے قرض سے متعلق سوالات کیے گئے جس پر انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تفتیش کے دوران بلاول بھٹو نے کسي بھي غيرقانوني ٹرانزيکشن سے بھی اظہار لاتعلقي کا اظہار کیا۔ تمام عمل میں ڈي جي نيب خود تفتيش کي نگراني کرتے رہے۔ تفتیش کے دوران جعلي اکاؤنٹس کيس کي تفتيش سے حاصل شواہد پر سوالات کيے گئے۔ دونوں سے ديگر ملزمان کے بيانات پر بھي سوالات کيے گئے۔

ویڈیو: کارکنوں کو دیکھ کر بلاول کا وکٹری کا نشان

ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیموں میں مجموعی طور پر 10 افسران شامل ہیں اور 4 کیس افسران کیسز کی نگرانی کررہے ہیں جب کہ ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی دونوں تفتیشی ٹیموں کے نگران ہیں۔ تفتیش کے اختتام پر دونوں رہنماوں کوايک ايک سوالنامہ بھي ديا گيا۔ بعد ازاں دو گھںٹے کی تفتیش کے بعد بلاول بھٹو اور آصف زرداری واپس روانہ ہوگئے۔ دونوں رہنما الگ الگ گاڑیوں میں قافلے کی شکل میں روانہ  ہوئے۔

 

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ روز آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی دس دن کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی اور اس سے قبل ان کے کیس کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

POLICEMEN

ZARDARI

BILAWAL BHUTTO

Park Lane

Tabool ads will show in this div