غداری کیس میں ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہو گا، خصوصی عدالت کا فیصلہ

Nov 30, -0001

ویب ڈیسک:
اسلام آباد : غداری کیس میں قائم خصوصی عدالت نے ضابطہ فوجداری کے اطلاق سے متعلق فیصلہ سنا دیا، خصوصی عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوگا،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد آٹھ جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے خصوصی عدالت پر ضابطہ فوجداری کے اطلاق کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ اس کیس میں خصوصی قوانین کے تحت ضابطہ فوجداری کااطلاق ہوتا ہے، خصوصی عدالت کے قانون میں کوئی سقم نہیں، اگر کہیں کوئی کمی ہے تو وہاں عمومی اور ریاستی قوانین کا اطلاق ہو گا۔

اکرم شیخ کا مزید کہنا تھا کہ وکلاء صفائی کی درخواستوں اور اعتراضات سے لگتا ہے کہ خصوصی عدالت کو کوئی اختیارات حاصل نہیں اور اس کا دائرہ کار بھی بہت محدود ہے، بعد ازاں اکرم شیخ کی جانب سے مختلف مقدمات کا حوالہ بھی دیا گیا۔

سابق صدر مشرف کے وکیل انور منصور نے کہا کہ خصوصی عدالت ایکٹ کی دفعہ تیرہ میں کہا گیا ہے کہ اس پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہو گا۔ وکلاء صفائی کے رکن ڈاکٹرخالد رانجھا نے کہا کہ سابق صدر کا ٹرائل صرف ملٹری کورٹ میں کیا جا سکتا ہے، دوسری کوئی عدالت ان کا ٹرائل کرنے کی مجاز نہیں۔ بعد ازاں خصوصی عدالت نے آٹھ جنوری کو سماعت کے بعد ضابطہ فوجداری سے متعلق مخفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔ واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو سولہ جنوری کو طلب کر رکھا ہے۔ سماء

میں

کا

فیصلہ

MH370

کیس

captured

Tabool ads will show in this div