مشال خان قتل کیس کا فیصلہ 21 مارچ تک موخر

پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ 21 مارچ تک موخر کردیا۔ قتل کیس کے آخری 4 ملزمان کا فیصلہ آج موخر کیا گیا۔ کیس میں 4 مرکزی ملزمان کے خلاف مجموعی طور پر 46 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کے کیس کا فیصلہ 12 مارچ کو محفوظ اور 16 مارچ کا سنانے کا اعلان کیا تھا۔

 

واضح رہے کہ مشال خان قتل کیس کے 2 ملزمان کی درخواست ضمانت خارج، جب کہ ایک کی کالعدم قرار دے جا چکی ہے۔ ان میں مرکزی ملزم اسد بھی شامل ہے۔ دیگر ملزمان میں شامل صابر مایار، اظہاراللہ عرف جونی اوراسد نے کیس کا فیصلہ سامنے آنے پر خود گرفتاری دی تھی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے مشال خان کیس میں ایک ملزم کو سزائے موت اور 4 کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ اس سے قبل گزشتہ برس فروری کے آخر میں عدالت نے مشال خان قتل کیس میں 25 ملزمان کی سزائیں معطل کردی تھیں۔

 

پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ میں کیس سے متعلق سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی تھی جس کے بعد یہ فیصلہ دیا گیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ بھی مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کو نمٹا چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ملزم کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہوچکی ہے، جس کے بعد ازخود نوٹس کو مزید چلانے کی ضرورت نہیں بنتی۔

 

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صوبائی حکومت نے بری ہونے والے ملزمان کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے۔ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں توہین رسالت کے الزام میں قتل ہونے والے مشال خان کے واقعے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

 

مقتول مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کیمپس دن دیہاڑے توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔ طلبا نے توہین مذہب کا الزام لگا کر صوابی کے رہائشی، ماس کمیونیکیشن کے طالبعلم مشال خان کو بدترین تشدد اور فائرنگ کرکے قتل کیا۔

مشال قتل کیس میں نامزد 60 میں سے 57 ملزمان کو پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ جن کے خلاف مشال خان کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہری پور جیل میں چلایا تھا۔

Mardan University

Mashal Khan

blasphemy case

Tabool ads will show in this div