جام کمال کے خلاف اپنوں کا محاذ

Mar 15, 2019

حکومتیں ہمہ وقت تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔ ایسی ہی صورتحال کا بلوچستان حکومت کو سامنا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا نو مارچ کو ساروان ہاﺅس میں اجلاس ہوا۔ بعد ازاں گیارہ مارچ کو پریس کانفرنس کے ذریعے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ صوبے میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی ) سے متعلق چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ ا س کے لیپس ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔چناں چہ حزب اختلاف نے مذکورہ مواقعوں پرصوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اُٹھائے کہ حکومت ناکام نظر آرہی ہے جس کی وجہ سے پی ایس ڈی پی جاری نہ کر سکی ہے۔

قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جام حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جا ئے گا۔ اس اعتراض کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ عدالت عالیہ بلوچستان نے صوبے کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا۔ مقصد اس کی خامیوں کو دور اور اصلاح کرنا تھا۔ جام کمال کی حکومت نے بلوچستان ہائیکورٹ کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ خامیوں اور غلطیوں کودور کرنا بہتر اقدام ہے لیکن اگر باقی ترقیاتی اسکیمیں روکی جائیں گی تو اس سے صوبے کے اندر جاری ترقیاتی عمل متاثر ہوگا۔

بہر حال حکومت چاہتی ہے کہ پی ایس ڈی پی تمام تر خامیوں اور برائیوں سے پاک ہو۔ نیز صوبے کے اندر احتساب لازم ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ جام کمال تو یہاں تک مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ بلوچستان کے اندر گزشتہ پچیس سالوں کی پی ایس ڈی پی پر کمیشن قائم کرے۔ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ یقینا صوبے کے اندرماضی میں پی ایس ڈی پی پر اطمینان کا اظہار نہیں ہوا، یہ ہمیشہ متنازع ہی رہا ہے۔ چناں چہ بلوچستان ہائی کورٹ نے 19-2018 کے پی ایس ڈی پی کا از خود نوٹس لیکر اس پر کام روک دیا۔

پی ایس ڈی پی کیس کی عدالت میں سماعت کے دوران وہ افسران اس سے لا تعلق ہوگئے جنہوں نے اس پی ایس ڈی پی پر دستخط کئے تھے اور دباؤ کا شکوہ کیا۔ گویا انہیں دستخط کرنے پر مجبور کیاگیا تھا۔ اس بنا پر قانونی نکات و تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسکیمیں پی ایس ڈی پی میں شامل کرلی گئی تھیں۔ عدالت نے البتہ تعلیم، امن وامان، صحت اور پانی کے شعبوں کے منصوبوں کو جاری رکھنے کا حکم دیا۔

حکومت کہتی ہے کہ صوبے کے دیگر سیکٹرز متاثر ہوئے ہیں اور صوبے میں زراعت، جنگلات، سڑکوں کی تعمیر، لائیو اسٹاک اور توانائی ایسے سیکٹرز ہیں جن پر کام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ زراعت اور لائیو اسٹاک بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں اس وجہ سے یہ شعبے متاثر ہورہے ہیں۔

وزیراعلیٰ جام کمال کہتے ہیں کہ عدالت عالیہ کے حکم کی وجہ سے صوبے کے ترقیاتی منصوبے محدود ہوگئے ہیں اور حکومت کے پاس گنجائش نہیں رہی۔ وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے یکم ستمبر 2018 کے بعد پی ایس ڈی پی ریویو کمیٹی اور ہر شعبے کے حوالے سے کیٹگریز بنادی ہیں۔ اسکیموں کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کن کن اسکیموں پر کتنا کام ہوا ہے اور ایک بڑا فیصلہ یہ کیا کہ تقریباً چالیس ملین روپے کی 411 اسکیمیں جو 70 سے 80 فیصد تک مکمل ہونے کے باوجود گزشتہ دس سالوں سے زائد عرصہ سے تاخیر کا شکار ہیں ان پر کام شروع کرایا گیا ہے تاکہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اب تک 8 سے 10 ارب روپے پی ایس ڈی پی کے تحت خرچ کئے جاچکے ہیں۔ اس سمیت پی اسی ڈی پی میں 1500 جاری اسکیمیں ہیں جن کی لاگت 37 ارب روپے ہے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ عدالت سے رجوع کرکے جن سیکٹرز پر کام روکا گیا ہے ان پر بھی کام شروع کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی جائے گی۔

جام کمال اس امید کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت رواں سال کے آخر تک صوبے کی آمدن 15 ارب روپے سے بڑھا کر 30 ارب تک لے جائے گی۔ بہت سارے نقائص کا اظہار خود جام کمال بھی کرچکے ہیں۔یقینا وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو ہیں اور اس وقت ان کی جنگ عدم شفافیت، بد عنوانی اور نظام میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف ہے۔

ضروری ہے کہ جام کمال آگے بڑھتے جائیں۔ ان کی حتیٰ الوسع یہ کوشش ہونی چاہیے کہ مخلص اور صاف دامن لوگوں سے کام لیا جائے۔ خواہ وہ حکومت کا حصہ ہوں یا بیورو کریسی کا۔ خصوصاً افسرشاہی کے اندر اچھی شہرت کے لوگوں کو چن چن کر اہم ذمہ داریوں پر مامور کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں با اختیار بنایا جائے تاکہ وہ دباﺅ میں آئے بغیر سرکاری اُمور کی انجام دہی کریں۔

جب آفیسر کٹھ پتلی وحریص ہوگا تو لا محالہ ان سے خلاف قانون کام لئے جائیں گے۔ حکومت کہتی ہے کہ 1800 سے 1900 ایسے منصوبے ہیں جن کے بنیادی قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے اور عدالت کے حکم پر یہ اسکیم ختم کردی گئی ہیں۔ جن محکموں نے یہ اسکیمیں بنائیں وہ خود گواہ بن گئے کہ یہ سب غلط ہوا ہے۔

جام کمال کا یہ مشورہ صائب اور صوبے کے مفاد میں ہے کہ اگر کسی آفیسر سے ضابطے کے بر خلاف کام لینے کی کوشش ہوتی ہے تو وہ خود جاکر عدالت سے رجوع کرے۔ یقینا اس طرح کالی بھیڑوں کو لگام لگ جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر بیورو کریسی خود کو درست سمجھتی ہے تو وہ حکومتی ذمہ داران کے دھونس، دباؤ اور دوسرے حربوں کے خلاف بغاوت کریں۔ ان کا عوام اور عدالت کے سامنے بے نقاب کریں۔ اگر بیورو کریسی کے اندر بھی طرز عمل ٹھیک نہ ہو تو یہ حکومتی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کیلئے مجاز اداروں سے رجوع کریں۔ ایسا ہوگا تو بلوچستان حقیقی معنوں میں ترقی کی را ہ پر چل پڑے گا۔ صوبے کی دولت اور وسائل کا تحفظ ممکن ہوسکے گا۔

جام کمال کمزور وزیراعلیٰ نہیں ہیں۔ ان کے خلاف وہ ٹولہ سرگرم ہے جنہوں نے وزیراعلیٰ نواب زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تخریب کی تھی۔ جن کے نزدیک ڈاکٹر عبدالمالک ، نواب زہری اور اب بطور وزیراعلیٰ جام کمال اچھا انتخاب نہیں ہے۔ یعنی سب ہی اچھائیاں و اعلیٰ صفات صرف ان کی ذات میں جمع ہیں۔ دیکھا جائے تو ان چند افراد نے بلوچستان کے اندر سیاست کو داغ دار کیا ہے۔ عدم اعتماد کے بعد بننے والی حکومت کو کوئی کم فہم ہی اچھے الفاظ سے یاد کرے گا۔

 جان جمالی بہت ہی سینئر سیاستدان ہیں۔ مناسب نہیں کہ وہ اشرار کے معاون و ہم خیال بن جائیں۔ سچی بات یہ ہے جان جمالی کو حاصل کچھ ہوگا نہیں بلکہ ان کا کندھا استعمال ہورہا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ اِکی پر دُکی مارنے والوں میں ایسے ارکان صوبائی اسمبلی بھی شامل ہیں کہ جن پر آئین کے دفعات اور 62،63 کے تحت گرفت ہوسکتی ہے۔

حزب اختلاف کو بھی دیکھنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی کے مقاصد کے لیے استعمال تو نہیں ہو رہی۔ جام کمال کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ عدالت عظمیٰ بلوچستان کے گزشتہ 25 سالوں کے پی ایس ڈی پی پر کمیشن کے ذریعے تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کرے اور اُن کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ بلاشبہ جن سرکاری آفیسران نے قانون کے بر خلاف پی ایس ڈی پی پر دستخط کئے ہیں ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔ بہتر ہوگا کہ گزشتہ 25 سالوں کی پی ایس ڈی پی کے خلاف وزیراعلیٰ جام کمال خان خود سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں۔

جلال نورزئی بلوچستان کے سنیئر صحافی اور سماء ٹی وی کوئٹہ کے بیورو چیف ہیں۔ 

Politics

Jam Kamal Khan