کالمز / بلاگ

کراچی میں مقیم کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

Mar 09, 2019

دنیا کے بیشتر ممالک خصوصاً پڑوسی ممالک کے ایک دوسرے سے تعلقات کسی نہ کسی سطح پر خراب رہے ہیں لیکن بہت سے ممالک نے اپنے مسائل حل کرلئے جبکہ بعض ممالک آج بھی مسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ حالیہ دور میں سب سے زیادہ مسائل جہاں نظر آتے ہیں ان میں مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر سر فہرست ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے قیام سے آج تک برقرار ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگیں ہوچکی ہیں، جبکہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر اور سرحدی خلاف ورزیاں تو معمول کی باتیں ہیں، پاک بھارت تنازع میں سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کا ہوتا ہے۔

گزشتہ ماہ فروری کے وسط سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جس کہ وجہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلواما میں بھارتی فوجیوں کے قافلے پر خود کش کار بم حملہ ہے، دھماکے میں 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور بالاکوٹ کے قریب اپنے پے لوڈ پھینک کر فرار ہوگئے، اگلے دن پھر فضائی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی جس پر پاکستانی طیاروں نے 2 بھارتی طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ’’امن کی خاطر‘‘ بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا گیا تاہم اس کے بعد بھی ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا اور دونوں طرف لوگ مرتے رہے۔

تمام تر صورتحال کے دوران پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام چلنے والے جموں و کشمیر کے علاقوں میں کشمیریوں کو مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں نے نقل مکانی کی اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے لیکن کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ سرحد کے دونوں طرف رہنے والے کشمیری آخر کیا چاہتے ہیں؟۔ اس حوالے سے کراچی میں بسنے والے چند کشمیری بھائیوں سے گفتگو ہوئی جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر زور دیا اور اس کا حل بھی بتایا۔ کراچی میں موجود بیشتر کشمیری یہاں اچھی تعلیم اور روزگار کیلئے آتے ہیں جبکہ بعض مستقل رہائش بھی اختیار کر چکے ہیں۔

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں رہنے والے ایک کشمیری بھائی سے گفتگو ہوئی، جو شاید اسی انتظار میں تھے کہ کوئی ان سے رابطہ کرے اور وہ اپنا حالِ دل سنائیں، عتیق کیانی آزاد کشمیر کے پونچھ سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ کراچی میں ایل ایل بی کرنے کے بعد شعبہ وکالت سے وابستہ ہیں۔

عتیق کیانی مسئلہ کشمیر کا حل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک نائب وزیر خارجہ ہونا چاہئے جو صرف اس معاملے کو دیکھے جبکہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور چیف سیکریٹری آزاد کشمیر سے ہونا چاہئے، حکومت پاکستان کی طرف سے نہیں۔ وکیل صاحب نے شکوہ کیا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر کو مدعو نہیں کیا جاتا جبکہ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ایسے شخص کو بنایا جاتا ہے جو اس کا اہل ہی نہیں ہوتا۔

خاندان پر گزرے مشکل لمحات کا ذکر کرتے ہوئے عتیق کیانی بتاتے ہیں کہ سن 1996ء میں پونچھ سیکٹر پر بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے ان کے سگے چچا لال خان کیانی شہید ہوئے جبکہ 2018ء میں 2 قریبی دوست بھی بھارتی جارحیت کا نشانہ بن گئے۔

کراچی آنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں تعلیم کی شرح بہت زیادہ ہے اور میرٹ ہائی ہونے کے باعث داخلے باآسانی نہیں ملتے جبکہ آزاد کشمیر میں موجود جامعات (یونیورسٹیز) کی فیس غریب آدمی ادا نہیں کر سکتا، ذریعہ معاش کیلئے لوگ زیادہ تر پاک آرمی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں یا پھر درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہو جاتے ہیں۔

سماہنی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے تنویر حسین کراچی میں امراض قلب کے ڈاکٹر ہیں اور شہر قائد میں اپنی موجودگی کی وجہ آزاد کشمیر میں اعلی تعلیم سمیت ملازمت کے مواقع کم ہونا بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سماہنی سیکٹر میں ان کا گھر ایل او سی سے کچھ فاصلے پر ہے جس کہ وجہ سے وہ محفوظ رہتے ہیں تاہم حالیہ واقعات میں بھارتی طیارہ ان کے گاؤں کے قریب ہی گرا۔

کراچی میں شعبہ صحافت سے وابستہ باغ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے کشمیری کے علاوہ دیگر کئی افراد یہاں اپنا کاروبار اور دوسرے شعبوں میں ملازمت کر رہے ہیں۔ کشمیری جہاں آزاد کشمیر میں مواقع کم ہونے کا شکوہ کرتے ہیں، وہیں پاکستان کے ساتھ منسلک بھی رہنا چاہتے ہیں۔ بھارت کیخلاف جنگ کو نظریاتی جنگ قرار دیتے ہیں جبکہ مطالبہ کرتے ہیں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو اور ایک ریفرنڈم کروا کر فیصلہ کشمیریوں پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ کس ملک کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

pak army

Pulwama Attack

war threat

Tabool ads will show in this div