خبردار! تیسر ٹاؤن رہائشی اسکیم کے درخواست گزاروں کا ڈیٹا محفوظ نہیں

ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے تیسر ٹاؤن میں رعایتی ہاؤسنگ اسکیم کا فارم بھرنے کے لیے آن لائن پورٹل تو بنایا مگر اس کو لانچ کرنے سے پہلے چیک کرنا ہی بھول گئے جس کے باعث پورٹل میں بڑی خرابیاں رہ گئی ہیں۔ یہاں تک کہ درخواست گزاروں کے پرسنل کوائف بھی محفوظ نہیں ہیں۔

بدھ کو سستی رہائشی اسکیم کا اعلان کرنے کے ساتھ ایم ڈی اے نے فارم کے حصول کے لیے آن لائن فارم کی سہولت بھی فراہم کی تھی تاکہ عوام کو بینک کے باہر قطاروں کی جھنجھٹ سے نجات ملے۔ آن لائن پورٹل پر درخواست گزار فارم بھرنے کے بعد اسے پرنٹ کرکے فیس کے ساتھ بینک میں جمع کروا سکتے ہیں۔

پورٹل لانچ ہونے کے پہلے ہی دن سے لوگوں نے اس میں موجود خرابیوں سے متعلق شکایات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے تو فارم پرنٹ نہیں ہوتا۔ اگر ہو بھی جائے تو اس پر سیریل نمبر نہیں ہوتا۔ جن فارم پر سیریل نمبر نہیں ہوگا وہ پلاٹ کے حصول کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

اس سے بڑھ کر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب درخواست گزار آن لائن اپنا فارم بھرنے کے بعد اس کو پرنٹ کرتے ہیں تو فارم میں ان کے بجائے کسی اور کے کوائف پرنٹ ہوجاتے ہیں۔

اس بڑی تکنیکی خرابی کی تصدیق کرنے کے لیے سماء ڈیجیٹل کے 4 ارکان نے آن لائن فارم بھرنے کے بعد اس کو پرنٹ کیا تو اس میں ان کے نہیں بلکہ اور لوگوں کے کوائف درج تھے۔ یہ چاروں فارم سماء ڈیجیٹل کے پاس بطور ثبوت موجود ہیں۔

جب سماء ڈیجیٹل نے پرنٹ ہونے والے فارمز پر موجود نمبروں سے رابطے کیے تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آن لائن فارم بھرے تھے۔ اس مسئلے  کا سامنا صرف سماء ڈیجیٹل کے ارکان کو ہی نہیں ہوا بلکہ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس کا اظہار کیا ہے۔

 

اس رپورٹ کے شائع ہونے تک ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یہ خرابی دور نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنے لوگوں نے آن لائن فارم بھرے ہیں، ان سب کا ذاتی ڈیٹا ہر کسی کے لیے با آسانی دستیاب ہے اور کوئی بھی ان لوگوں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

ان معلومات میں نام، والد یا شوہر کا نام، شناختی کارڈ نمبر، موبائل فون نمبر، تاریخ پیدائش، ای میل ایڈریس، موجودہ اور مستقل رہائشی پتہ شامل ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ بالکل وہی معلومات ہیں جس کی ہیکرز کو ہر وقت تلاش رہتی ہے۔ وہ یہ ڈیٹا آن لائن مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں جو فراڈ اور جعلسازی میں استعمال ہوتا ہے۔

سماء ڈیجیٹل نے ایم ڈی اے سے رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں کیں مگر رابطہ نہ ہوسکا جس کی وجہ سے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کتنے درخواست گزاروں نے ابھی تک آن لائن فارم بھرے ہیں لیکن ایم ڈی اے رہائشی اسکیم میں آفیشل پارٹنر سلک بینک کے ایک عہدیدار نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ایم ڈی اے کے اندازے کے مطابق 4 لاکھ کے لگ بھگ درخواستیں آن لائن جبکہ اتنے ہی سلک بینک کی شاخوں میں موصول ہوں گی۔

دوسری جانب سلک بینک کی کراچی بھر میں واقع 30 برانچوں کے باہر عوام کا رش دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ درخواست گزاروں کی تعداد ایم ڈی اے کی توقع سے کئی گنا زیادہ ہے جس کا مطلب ہے کہ آن لائن فارم بھرنے والوں کی تعداد بھی 4 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہوگی۔

HOUSING SCHEME

MDA

Data Breach

Digital Privacy

Data Security

Tabool ads will show in this div