مہاجرین کے کیمپ میں رہائش پذیر کشمیری واپس جانے سے کترانے لگے

Mar 08, 2019
Photo: Roohan Ahmed/SAMAA
Photo: Roohan Ahmed/SAMAA
Photo: Roohan Ahmed/SAMAA
Photo: Roohan Ahmed/SAMAA
[caption id="attachment_1475697" align="alignnone" width="640"] تصویر: روحان احمد، سماء[/caption]

جب گھر ہی میدان جنگ بن جائے تو مہاجرین کا کیمپ بھی جنت دکھائی دیتا ہے، خواہ وہاں 400 دوسرے لوگوں کے ساتھ ہی کیوں نہ رہنا پڑے ۔

ایک حکومتی اہلکار کے مطابق، 73 خاندانوں کے تقریباً 400 لوگ ہٹیاں بالا میں قائم آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی کے عارضی کیمپ میں رہائش پذیر ہیں۔

ان پناہ گزینوں کو ضروریات زندگی مثلاً کمبل اور گدے فراہم کیے گئے ہیں۔ خواتین یونی ورسٹی کے پہلے فلور پر موجود کلاس رومز میں سوتی ہیں جبکہ مرد حضرات گراؤنڈ فلور پر استراحت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبر: قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی،4 کشمیری شہید

لیکن کیمپس اتنا کشادہ نہیں ہے، وہاں مرد حضرات کو صرف دو کمروں میں رہنا پڑتا ہے جبکہ باتھ رومز کی تعداد بھی محض 4 ہے۔

[caption id="attachment_1475692" align="alignnone" width="640"] تصویر: روحان احمد، سماء[/caption]

ہنگامی حالات کی وجہ سے یونی ورسٹی نے کلاسز معطل کر رکھی تھیں مگر اب ان کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کو واپس چلے جانا چاہیے کیوں کہ حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بھارت کی سرحدی افواج نے فروری 27 اور 28 کو چکوٹھی کے ایک چھوٹے سے گاؤں پر 8 یا 9 گولے داغے تھے ۔ ایک فوجی نے بتایا کہ بھارتی گولہ باری کا بھرپور جواب دیا گیا جس میں بھارتی چیک پوسٹوں کو اُڑا دیا گیا۔ جس کے بعد بھارتی افواج وہاں سے ’’بھاگ‘‘ گئیں۔

ایک ڈسٹرکٹ حکومت کے اہلکار نے کہا کہ اب ان تمام پناہ گزین خاندانوں کو واپس اپنے گھر چلے جانا چاہیے کیوں کہ طلبہ کی تعلیم کا حرج ہورہا ہے، اس لیے اب کلاسز شروع کرنی ہوں گیں، لیکن یہ لوگ واپس نہیں جانا چاہتے ۔

متعلقہ خبر: جنگ کے امکانات ختم ہونے پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، دفتر خارجہ

سولہ سال کے فیضان کا تعلق بھی چکوٹھی سے ہی ہے ۔ وہ کیمپ کے قریب قائم گھروں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے ۔

[caption id="attachment_1475687" align="alignnone" width="640"] تصویر: روحان احمد، سماء[/caption]

چکوٹھی ہٹیاں بالا سے 10 کلومیٹر ہی دور ہے مگر دونوں میں دنیا جہاں کا فرق ہے ۔ ہٹیاں بالا دریائے جہلم کے کنارے واقع ایک چھوٹا سا پہاڑی علاقہ ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بھارتی گولہ باری سے محفوظ ہے ۔

سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے فیضان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس رہنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے ۔ اگرچہ فیضان کے امتحانات جمعرات سے شروع ہوچکے ہیں پھر بھی وہ گھر نہیں جانا چاہتا ۔ اس کو خوف ہے کہ کسی دن وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشمکش کا شکار ہوجائے گا۔ بھارت کے جانب سے چکوٹھی پر مسلسل فائرنگ اور گولہ باری جاری ہے۔

متعلقہ خبر: صدر آزاد کشمیر کا ایل او سی کا دورہ، بھارتی گولہ باری کے متاثرین سے ملاقات

خوفزدہ فیضان کا کہنا ہے کہ گولہ باری اور فائرنگ اگرچہ رک چکی ہے مگر ہم واپس نہیں جانا چاہتے کیوں کہ ہمیں دشمن کا اعتبار نہیں ہے، کیا ہوگا اگر ہمارے پہنچتے ہی بھارتی فوج دوبارہ گولہ باری شروع کردے ۔

کچھ لوگ گھر جانے کے لیے تیار بھی ہوگئے مگر ان کے بچے تیار نہیں ہوئے۔ ہٹیاں بالا میں وہ جب اور جہاں چاہیں کھیل سکتے ہیں ، یہ ایسی سہولت ہے جو ان کو چکوٹھی میں میسر نہیں ہے۔

[caption id="attachment_1475682" align="alignnone" width="640"] تصویر: روحان احمد، سماء[/caption]

چار سالہ نایاب نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اسے بھی گاؤں میں کھیلنا بہت پسند ہے لیکن اسکی والدہ اُسے نہیں کھیلنے دیتی کیوں کہ اسے خوف ہوتا ہے کہ دشمن کسی بھی وقت فائرنگ کرسکتا ہے۔

گھر واپسی کے لیے لوگ اپنا سامان اٹھا کر کوسٹرز میں رکھ رہے تھے اور ان کے منہ سے خوف بھری آہ بلند ہو رہی تھی۔ بچوں اور بڑوں نے بیگز اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے لیکن ان کی حسرت بھری نگاہیں ابھی تک اپنی محفوظ پناہ گاہ کو ہی دیکھ رہی تھی۔ ایک انجانا خوف ان پر طاری تھا کہ نجانے گھر پہنچ کر کیا ہو۔

منگل کی شام چکوٹھی میں اپنے گھر پہنچنے والوں میں محمد حسین بھی شامل ہے۔ اگرچہ وہ گھر نہیں لوٹنا چاہتا تھا مگر بچوں کے امتحانات کی وجہ سے آنا پڑا۔ محمد حسین نے بتایا کہ گاؤں چھوڑنا بہت مشکل تھا، ہمارے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے، ہمیں گاڑی کے لیے 6 گھنٹے کا انتظار کرنا پڑا۔

متعلقہ خبر: پاکستان بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ ہوسکتی ہے،نیویارک ٹائمز

محمد حسین نے مزید بتایا کہ بھارت کی جانب سے فائر کیا گیا ایک گولہ ان کے گاؤں میں گرا، جس گھر پر گولہ گرا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور ہمیں نہیں پتا کہ وہاں رہنے والے تین بچے اور ان کے اکیلے والد زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

[caption id="attachment_1475677" align="alignnone" width="640"] تصویر: روحان احمد، سماء[/caption]

ہٹیاں بالا کے اسسٹنٹ کمشنر محمد عثمان صارم نے پناہ گزینوں کو یقین دلایا کہ ان کے لیے پھر رہائش کا بندوبست ہوجائے گا اگر بھارت کی جانب سے دوبارہ گولہ باری کی گئی۔

ڈسٹرکٹ حکومت کے اور اہلکار نے سماء کو بتایا کہ کہ حکام لوگوں کو گھر جانے پر قائل کر رہے ہیں لیکن وہ ان کو جانے پر مجبور نہیں کرسکتے، باقی ماندہ خاندانوں کو 2 کلاس رومز میں منتقل کیا جائے گا اور ہم جمعے کے دن سے کلاسز کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔

متعلقہ خبر: قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی،4 کشمیری شہید

لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت سے چکوٹھی میں بَنکرز (زیرِ زمین پناہ گاہ) بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر خان نے وعدہ کیا تھا کہ بَنکرز جون تک تعمیر ہوجائیں گے، اب مارچ آچکا ہے لیکن ان کے اس وعدے پر تھوڑی سی پیشرفت ہی سامنے آسکی ہے۔

چکوٹھی کے ایک رہائشی، آفتاب، نے کہا کہ حکومت نے اسی طرح کے وعدے ماضی میں بھی کیے تھے لیکن پورے کبھی نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بَنکر تعمیر نہیں ہوتے حکومت کو ایک مستقل پناہ گزین کیمپ قائم کردینا چاہیے۔

آفتاب نے کہا کہ اس کے خاندان کے کچھ لوگ 2003 میں بھارتی گولہ باری میں زخمی ہوگئے تھے، جب حالات پہلے جیسے پرامن ہوگئے تو ہم اپنے گاؤں واپس آگئے لیکن امن زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہا، دشمن نے پھر ہمارے گاؤں پر فائرنگ کی جس میں میرے 2 رشتہ دار جاں بحق ہوگئے تھے۔

 

AJK University

Chakhoti

Hattian Bala

Internally Displaced Persons

Tabool ads will show in this div