او آئی سی میں بھارت کو شرمندگی کا سامنا،مذمتی قرارداد منظور

Mar 03, 2019

عالمي محاذ پر پاکستان کو ايک اور کاميابي مل گئي۔ او آئی سی اجلاس میں بھارت کو اس وقت شرمندگي کا سامنا کرنا پڑا جب او آئي سي اجلاس ميں مقبوضہ کشمير ميں بھارتي دہشت گردي کي مذمت کی گئی اور مذمتی قرار داد منظور کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت حل کرنے پر زور دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات میں ہونے والی اسلامي تعاون تنظيم کے وزرائے خارجہ کے 46 ویں اجلاس ميں مسئلہ کشمير اقوام متحدہ کي قراردادوں کے مطابق حل کرنے کي قرارداد منظور کی گئی، جب کہ بھارت کو طاقت کے استعمال سے بھي باز رہنے کي تلقين کی گئی۔ اہم فورم پر کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ او آئی سی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کو متنازعہ مسئلہ قرار دیا۔

او آئی سی نے تصفیہ طلب مسائل پُر امن طریقے سے حل کرنے پر بھی زور دیا، اور کہا کہ بھارت طاقت کے استعمال اور دھمکیوں سے گریز کرے۔

اجلاس میں بھارتي پائلٹ کي واپسي اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امن کي کوششوں کي تعريف بھی کی گئی۔ اجلاس میں پاکستان کو او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کا مستقل رکن بھی منتخب کرلیا گيا۔

دریں اثنا، دفترِ خارجہ نے او آئی سی اجلاس کی قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں قرارداد کشمیری عوام کی حمایت پر مبنی ہے، جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے تنازع کا حل ہونا نا گزیر ہے۔

اجلاس پر دفترِ خارجہ نے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اجلاس میں کشمیری عوام کی حمایت کاعزم دہرایا گیا، پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر بنیادی تنازع ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (او آئی سی) کے اجلاس میں بھارت کو بلائے جانے پر شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت او آئی سی کا رکن ہے نہ مبصر، درخواست کی تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ کو بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

Pulwama Attack

INDIAN PILOT

Tabool ads will show in this div