اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی پائلٹ کی حوالگی کے خلاف دائر درخواست خارج کردی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست کے وکیل نے کہا کہ بھارتی پائلٹ پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے پکڑا گیا،کلبھوشن یادیو بھی جارحیت کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ مجھے یہ بتائیں کہ پائلٹ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کون کرتا ہے ؟ وزیر اعظم نے ایوان میں پائلٹ کی رہائی کا اعلان کیا ، پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں کے نمائندے موجود تھے ،کسی نے بھی عمران خان کے اعلان پر اعتراض نہیں کیا ، یہ ایک پالیسی کا معاملہ ہےاور ہمیں پارلیمنٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

 درخواست گزار کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو اس معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا ،ابھی لائن آف کنٹرول پر جنگ جاری ہے،جنیوا کنونشن بھی کہتا ہے کہ تنازعہ ختم ہونے کے بعد  قیدی واپس کئے جائیں،وزیراعظم تقریر ختم کرکے بیٹھے اور پھر اٹھ کر اعلان کردیا،عوامی جذبات وزیراعظم کے اس فیصلے کے ساتھ نہیں ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا ہم منتخب نمائندگان کی حب الوطنی پر شک کر سکتے ہیں؟ جب تمام ارکانِ پارلیمنٹ ایک بات پر متفق ہوتے ہیں تو کسی بحث کی ضرورت نہیں ہوتی ، سپریم کورٹ نے 2014کے فیصلے میں کہا تھا کہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں عدالتوں کو مداخلت نہیں کرنی چائیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی پائلٹ کی حوالگی کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔

ISLAMABAD HIGH COURT

INDIAN PILOT

Tabool ads will show in this div