امریکا، برطانیہ کا پاک بھارت کو تحمل کا مشورہ، ترکی نے ثالثی کی پیشکش کردی

Feb 27, 2019

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے فون پر رابطہ کیا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

شاہ محمود قریشی نے مائیک پومپیو کو بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور حکومت، پارلیمنٹ اور عوامی جذبات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سیاسی مقاصد اور انتخابات میں ووٹرز کو متوجہ کرنے کے لیے خطے کا امن خطرات سے دوچار کر رہا ہے اور پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لیکن ملکی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی جارحیت سے افغانستان میں قیام امن کیلئے مشترکہ کاوشیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ توقع کرتے ہیں کہ امریکا اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی میں حب الوطنی کا معیار کیا ہے؟

امریکی سیکریٹری خارجہ نے پاکستان اور بھارت کو ’ضبط وتحمل‘ سے کام لینے کا مشورہ دیا۔

دریں اثنا شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد کو بھی ٹیلی فون کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی مذمت کرے۔ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج کو او آئی سی کے اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے پر بھی شدید احتجاج کیا۔

ادھر ترک وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قابو پانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ پاکستان بھارت کےدرمیان تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے ہر طرح کا تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم نے پاکستان کو اپنے اس موقف سے آگاہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پر انہیں خدشات لاحق ہیں اور ترکی ان مسائل کو حل کرنے میں تعاون کے لئے تیار ہیں۔

اس سے قبل ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر تین بار بات چیت کی اور پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت کی صورت میں ترکی کھل کر پاکستان کی حمایت کرے گا۔

برطانیہ کا اظہار تشویش

برطانوی وزیراعظم نے پاک بھارت کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے کے استحکام کیلئے مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں اور سیکیورٹی کونسل کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔

USA

Tabool ads will show in this div