سوشل میڈیا کو لگام دیں تاکہ کسی اور کا مشال بےدردی سے قتل نہ ہوجائے، والد اقبال

مردان یونی ورسٹی میں توہین رسالت کے مبینہ الزام میں قتل ہونے والے مشال خان کے والد اقبال لالہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈالنے کیلئے سخت قانون کی ضرورت ہے تاکہ کسی اور کا مشال بےدردی سے قتل نہ ہو جائے۔

اسلام آباد میں میڈیا اور دہشت گردی سے متعلق منعقدہ سیشن سے خطاب میں والد مشال خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں روشن پاکستان کا چہرہ دکھانے کیلئے اسے ذہنی طور پر بھی روشن کرنا پڑے گا، کسی کی رائے سے اختلاف اپنی جگہ مگر اس بنیاد پر کسی کو قتل کرنا، انسانیت کا قتل ہے۔

اقبال لالہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا سے متعلق کوئی مناسب قانون موجود نہیں۔ اقوام متحدہ کا سوشل میڈیا سے متعلق آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی فورم پر بھی سوشل میڈیا سے متعلق قوائد اور ضوابط موجود ہیں، تاہم افسوس کے ان کا اطلاق ملکی سطح پر نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں سائنس نے روز بروز ترقی کی ہے، وہی سوشل میڈیا کی اہمیت اور اس کا کردار بھی بڑھ گیا ہے، وہ لوگ جنہیں کہی بڑھاس نکالنے کا موقع نہیں ملتا وہ بھی سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں، صرف سوشل میڈیا ہی نہیں، ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں میں عدم برداشت کا رجحان بڑھا ہے۔

ہال میں موجود طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے مشال کے والد کا کہنا تھا کہ ہمیں سوشل میڈیا پر لوگوں کی پوسٹ سے متعلق رائے دینے میں احتیاط کرنی چاہیئے، کسی کی رائے سے اختلاف اپنی جگہ مگر اختلاف رائے پر کسی کو قتل کرنا قبول نہیں، کسی قانون اور انیسانیت کے طور پر بھی یہ درست نہیں۔

حکام کو مخاطب کرتے ہوئے مشال کے والد کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حالیہ دور میں سوشل میڈیا ہر بڑھتے نفرت کے رجحانات کو قابو کیا جائے، نوجوان نسل موبائل سے نکل کر مکالمے کی طرف آئے۔

مقتول مشال کا ذکر کرتے ہوئے اقبال لالہ نے کہا کہ مشعل کو اس لیے نہیں مارا گیا کہ اس نے کوئی جرم کیا تھا، مخالفین کی نظر میں اس کا جرم تھا تو یہ کہ وہ غریبوں کی مدد کرتا تھا، وہ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، وہ نصاب میں تبدیلی چاہتا تھا، تاہم بعض مقامی پارٹی رہنماوں کو یہ بات کسی قبول نہ تھی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی مشال قتل کی ویڈیوز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے بھی دیکھا اور دنیا نے بھی کہ مشعل کو کس بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا، اسے کسی پہاڑ، جنگل، صحرا یا غار میں نہیں بلکہ دن دیہاڑے روشنی میں ایک مقدس درسگاہ میں لوگوں کے ہجوم کے سامنے قتل کیا گیا، صبح 10 بجے مارنا شروع کیا گیا اور سلسلہ بغیر کسی تعطل کے دن 3 بجے تک جاری رہا، پولیس سمیت اساتذہ تماشائی بن کر واقعہ دیکھتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ مشعل غریبوں کی آواز تھا، اس کا قصور یہ تھا کہ وہ غریبوں کی آواز بنتا تھا، وہ بدعنوانوں کو بے نقاب کرتا تھا، جس پر سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں کو اعتراض تھا، مشعل کے مخالف مقامی رہنماوں کو یہ کسی صورت برداشت نہ تھا، یوں انہوں نے میرے بچے پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کرکے اسے قتل کر دیا، انہوں نے علم کے ادارے کو مقتل بنا دیا، صرف اس وجہ سے کہ انہیں مشعل کی رائے اور سوچ سے اختلاف تھا۔

اقبال لالہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں پنپتی یہ سوچ کوئی نئی بات نہیں، یہ چالیس سال پرانا بیانیہ ہے، جسے تبدیل کرنے میں ابھی کافی وقت اور عمل درکار ہے، لوگوں کے ذہنوں میں پنپتے نفرت کے بیچوں کو اکھاڑ پھیکنے میں سچی لگن اور محنت درکار ہے۔

اس موقع پر انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجود نصاب کو فوری تبدیل کیا جائے اور اس نصاب کو پڑھانے والوں کو بھی تبدیل کیا جائے، ایسے لوگوں کو سامنے لایا جائے جو برداشت کا سبق اور اس کی تلقین کرتے ہیں، تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کے ذہنوں کو عدم برداشت اور نفرتوں سے پاک کیا جائے اور پھر کسی مشال کو ایسے دن دیہاڑے قتل نہ کیا جائے۔

اپنے خطاب کے آخر میں اقبال لالہ کا کہنا تھا کہ روشن پاکستان کا روشن چہرہ دکھانے کیلئے ہمیں اسے اندر ذہنی طور پر اور دل سے روشن کرنا ہوگا، ہمیں تشدد اور جنگ کو شکست دینے کیلئے محبت اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔

Mardan University

Lynching of mashal khan

social media law

Tabool ads will show in this div