صرف حکومت ہی نہیں، میڈیا بھی اقلیتوں کے حقوق پر بات کرنے سے ڈرتا ہے

اس ملک کو پہلے دن جس پٹری پر ڈالا گیا، یہ ملک اب بھی اسی پٹری پر چل رہا ہے، ہمیں قائد اعظم کی اقتلیوں سے متعلق تقریر تو یاد نہیں مگر قرار داد پاکستان کو ہر پاکستانی آنکھوں اور دل سے لگا کر رکھتا ہے۔

اسلام آباد کی بحریہ یونیورسٹی میں ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی عالمی میڈیا کانفرنس کا ایک سیشن مذہبی تشدد اور اس پر میڈیا کے رجحان سے متعلق بھی تھا، پینل کے معزز شرکاء میں نامور کالم نگار وسعت اللہ خان، معروف ٹی وی اینکر اور کالم نگار خورشید ندیم، آسٹریلیا میں زیر تعلیم عائشہ حسن اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی عظمیٰ علیم شامل تھیں۔

سیشن کے آغاز میں عائشہ حسن نے اپنے ذاتی تجربے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وزیرستان سے تعلق رکھتی ہیں اور آج کل پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ریسرچ پیپر پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رہتے ہوئے متعدد بار ایسے مواقع آئے جب انہیں بھی اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک سوال کے جواب میں عائشہ کا کہنا تھا کہ ایک نفرت وہ ہوتی ہے جو آپ کسی سے کرتے ہیں اور ایک نفرت حکومتی سطح پر پروان چڑھائی جاتی ہے، کہ یہ فرقہ غیر مسلم ہے تو اس سے نفرت ہی کرنا ہے، یہ فرقہ واجب القتل ہے تو اسے مار کر ہی جنت کا راستہ مل سکتا ہے، جب حکومت ہی شدت پسندانہ رجحانات کو پروان چڑھائے گی تو معاشرہ بھی اسی سمت جائے گا، حکومت کی ایسی ہی پالیسیوں سے لوگوں کو جواز مہیا کردیا جاتا ہے۔

احمدی فرقے کی بات کرتے ہوئے عائشہ حسن کا کہنا تھا کہ ایک مسئلہ احمدیوں کا ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ کیسے ہم میڈیا خاص کر سوشل میڈیا کو استعمال کرکے اس تاثر کو زائل کرسکیں۔ عائشہ کے مطابق کچھ سال قبل ایک نجی چینل کے صحافی کو صرف اسی وجہ سے گولیوں سے چھلنی کردیا گیا کہ وہ صرف احمدی فرقے سے متعلق رپورٹنگ کرتے تھے۔

اہم سیشن کے پینل میں معروف کالم نگار وسعت اللہ بھی موجود تھے، بے باک تجزیہ تو ان کا خاصہ ہیں، تاہم سیشن کے دوران بھی اپنی گفتگو اور باتوں سے وسعت اللہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے وسعت اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتیوں کے مسائل اس کمزور بچے جیسے ہیں، جسے دیکھ کر بلا وجہ مارنے کا دل چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انسانی جبلت ہے کہ آپ کمزور کے سامنے طاقت ور اور طاقت ور کے سامنے کمزور ہوتے ہیں اور کمزور کو نشانہ اس لئے بھی بناتے ہیں کہ آپ کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ یہ آپ کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکے گا، پاکستان میں موجود اقلیتوں کی مثال بھی ایسی ہی ہے، صرف حکومتی سطح پر ہی نہیں دور حاضر کا آزاد تصور کیا جانے والا میڈیا بھی آج تک کھلے دل سے اقیلتوں کو تسلیم نہیں کرسکا۔

نجی چینل پر نشر ہونے والی ایک خبر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب اسلامک یونیورسٹی میں خود کش حملہ ہوا تو اسے ناکام بنانے میں ایک مسیحی جان سے چلا گیا، بجائے یہ کہ ہم اس کی بغیر ذات، فرقے اور نسل سے بالا تر ہوکر قربانی کا اعتراف کرتے، جیو نیوز کی جانب سے اسے یہ کہا گیا کہ "مسیحی ہونے کے باوجود اس نے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا اور خود کش حملہ روکنے کے دوران جاں بحق ہوگیا"۔

آسیہ بی بی کیس بھی سیشن میں موضوع گفتگو بنا، پینل میں شامل شرکاء کا کہنا تھا کہ آج بھی میڈیا سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد مقتول گورنر سلمان تاثیر کا نام لینے سے ڈرتا ہے، آسیہ بی بی بے شک سپریم کورٹ کی نظر میں بے گناہ ہیں، مگر آج بھی کئی اخباروں میں آسیہ کو ملعون کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں رائج قوانین نے ہمیں فرقوں میں بھی درجہ بندی میں تقسیم کردیا ہے، آپ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا تو ذکر کر سکتے ہیں، مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں جگہ پر ایک احمدی کو مار دیا گیا۔

پینل کے مطابق میڈیا جہاں ہمیں برائیوں کے بارے میں بتاتا ہے وہیں وہ برائیوں کا موجب بھی بنتا ہے، ایسا ہی حال حکومت کا بھی ہے جب ریاست کی بنیاد ہی فرقوں کی تقسیم پر بنائی جائے تو معاشرہ ایسی ہی سوچ کے ساتھ پروان چڑھتا ہے۔ شرکاء کے مطابق صرف حکومت ہی نہیں ہمارا نصاب بھی ایسے ہی تشدد اور انتہاء پسند مواد سے بھرا پڑا ہے، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف صحافیوں ہی نہیں بلکہ میڈیا ہاؤسز اور ان کے اونرز کی بھی تربیت کریں اور ملک میں بسنے والی اقلیتوں سے متعلق ںظریہ تبدیل کرنے کی کوششیں کریں، جہاں 24 گھنٹوں میں دس پروگرامز انٹرٹینمٹ سے متعلق ہوتے ہیں، ایک گھنٹہ مخصوص کرکے ایسے پروگرامز کا آغاز کیا جائے، کیوں کہ یہ اقلیتیں بھی اتنی ہی پاکستانی ہیں جتنا کہ ملک میں بسنے والے دیگر افراد پاکستانی ہیں۔

MUSLIMS

MINORITIES

ICMC 2019

Tabool ads will show in this div