بھارت بین الاقوامی جارحیت تک پہنچ چکا جو خطے کیلئے خطرناک ہے، حِنا ربانی کھر

سابق وزیر خارجہ حِنا ربانی کھر کہتی ہیں کہ بھارت ڈومیسٹک جارحیت سے بین الاقوامی جارحیت تک پہنچ چکا ہے جو پورے خطے کے لئے خطرناک ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ مودی کے آنے کے بعد بھارت مزید جارحانہ ہوگیا ہے اور ایسے ہی پیغامات بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے دیے جا رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کہہ چکے کہ بھارت کو کشمیریوں سے کوئی ہمدردی نہیں، صرف کشمیر کی زمین سے دلچسپی ہے۔

حِنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کا ممبر ہے جبکہ او آئی سی میں بھارت کو گیسٹ آف آنر دیا جا رہا ہے، ہمارا ہمسایہ ہمارے خلاف بہت دفعہ جارحیت کرچکا ہے۔  ہمیں اپنے برادر اسلامی ممالک کو بتانا چاہیئے کہ وہ کس طرح کی جارحیت ایک مسلمان ملک اور کشمیری عوام کے ساتھ کر رہا ہے ۔

گزشتہ رات بھارتی جیٹ طیاروں نے مظفر آباد سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کی جس پر پاک فضائیہ کی بروقت جوابی کارروائی پر بھارتی طیارے بالاکوٹ کے قریب نصب ہتھیار پھینکتے ہوئے بھاگ نکلے۔

ایل او سی پر دراندازی ، پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی پر بھارتی طیارے فرار

بھارتی طیارے آزاد کشمیرمیں تین سے چار میل اندرداخل ہوئے ، پاکستان ایئر فورس نے بھر پور جوابی کارروائی کی جس پر بھارتی طیاروں نےواپس جاتےہوئے پےلوڈ ( طیاروں میں نصب گولہ بارود یا ہتھیار) کھلےعلاقےمیں پھینک دیا۔ پےلوڈ گرنے سےکوئی بھی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پارلیمنٹ کو صحیح معنوں میں با اختیار بنانا ہوگا، ہمیں پارلیمنٹ کی جانب سے ایک حکمت عملی وضع کرنی چاہیئے، ڈیبیٹنگ کلب نہیں بننا چاہیئے۔

حِنا ربانی کھر نے کہا کہ پیپلز پارٹی دور میں پارلیمنٹ میں سلالہ سمیت دیگر ایشوز پر پارلیمنٹ نے رہنمائی کی، وزیر دفاع یا وزیر خارجہ کو کم از کم ایوان کو بتانا چاہیئے تھا کہ ہوا کیا؟ اگر آپ خود پارلیمنٹ کو اس کا درجہ نہیں دینگے تو پھر کس طرح مضبوط پیغام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی سمیت دیگر ایشوز پر حکومت کو مضبوطی پارلیمان نے فراہم کی، اس ایوان سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں، وزیراعظم کو خود یہاں آکر بتانا چاہیئے۔

kashmir issue

indian aggression

Hina Rabbani Khar

former foreign minister

OIC Meeting

Tabool ads will show in this div