کراچی: ملیر میں 3 منزلہ رہائشی عمارت گر گئی، 3 افراد جاں بحق

کراچي کے علاقے ملير جعفر طیار سوسائٹی ميں تین منزلہ عمارت گرنے سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے، اب تک خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں اور 4 زخمیوں کو نکالا جا چکا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق 3 منزلہ رہائشی عمارت 96 گز پر تعمیر کی گئی تھی جس میں  35 سے 40 زائد افراد رہائش پزیر تھے۔

مقامي افراد اپني مدد آپ کے تحت پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں، اب تک 2 لاشیں اور 3 افراد کو زخمی حالت میں نکالا جا چکا ہے، صبح 10 بجے ملبہ اٹھانے کےليے ہيوي مشينري پہنچ چکی ہے۔ ریسکیو نے واقعے میں زخمی افراد کو طبی امداد کےلیے جناح اسپتال منتقل کر دیا ہے۔

ايس بي سي اے نے اپنی ابتدائي رپورٹ میں عمارت گرنے کا ذمہ دار مالک مکان کو قرار ديا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناتجربہ کار مزدوروں نے ’’کالم‘‘ کي مرمت کا کام غلط طريقے سے کيا، عمارت میں اندرونی تعمیرات خطرناک ثابت ہوئی اور اطراف کی عمارت اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایس بی سی اے نے گرائونڈ پلس ٹو کی اجازت دی تھی۔

وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کمشنر کراچی افتخار شلوانی ڈیڑھ گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے، انکا کہنا تھا کہ ریسکیو کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں؛ کراچی میں کم ازکم 500 عمارتیں گرانا ہوں گی، سپریم کورٹ

 گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ سماء سے بات کرتے ہوئے گورنر سندھ نے واقعے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ بلڈنگ قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا، عوام کے جان و مال کي حفاظت کےلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کي جان بچانا حکومت کا کام ہے اور حکومت ہمیشہ رضاکاروں پر انحصار کرتي ہے، بيورو کريسي کي نااہلي کا ملبہ حکومت پر گرتا ہے۔

صوبائی وزير بلديات سعید غنی کا کہنا تھا کہ تنگ گليوں کي وجہ سے ہيوي مشينري کا جانا ممکن نہيں تاہم متعلقہ حکام کو ہدايات جاري کر دي ہيں۔ ميئر کراچي وسیم اختر نے کہا کہ کچھ دير ميں جائے حادثہ پر پہنچ رہا ہوں جبکہ شہري انتظاميہ کا عملہ موقع پر پہنچ گيا ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز آف پاکستان سے تعلق رکھنے والے نورالدین احمد کا کہنا تھا کہ شہر میں تمام عمارتوں کی تعمیر کی منظوری اور نگرانی کےلیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرکیٹیکٹس، ایس بی سی اے میں عمارتوں کی تعمیر کا منصوبہ جمع کرواتے ہیں جس کے بعد ادارہ ماسٹر پلان کے تحت جانچ پڑتال کرتا ہے۔

نورالدین احمد نے بتایا کہ ماسٹر پلان میں سڑک کی چوڑائی، عمارت کی اونچائی اور دیگر معاملات دیکھے جاتے ہیں جب کہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ علاقے میں ریسکیو کی گاڑیاں، فائر فائٹرز کے ٹرک اور ہیوی مشینری کی جگہ ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پیش آنے والے واقعے میں سڑک اتنی کشادہ نہیں تھی کہ ریسکیو کی گاڑیاں گزر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملیر میں گرنے والی عمارت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ممکنہ وجہ ناقص تعمیر ہو سکتی ہے، کوئی بھی عمارت تعمیر کرنے سے قبل یہ ضرور دیکھنا چاہیئے کہ وہاں کی زمین عمارت کا وزن برداشت کرسکتی ہے یا نہیں۔

BUILDING COLLAPSE

Tabool ads will show in this div