کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق لڑکی کی موت کا معمہ حل نہ ہوسکا

کراچي ميں ميڈيکل کي طالبہ نمرہ کی مبينہ پوليس مقابلے میں موت کا وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لے لیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق نمرہ کو چھوٹے ہتھيار کی گولی لگی ہے تاہم اسے ملزمان کي گولي لگي يا پوليس کی جانب سے کی گئی فائرنگ میں وہ جان سے گئی، یہ بات اب تک واضح نہیں ہوسکی ہے۔ مبينہ پوليس مقابلے ميں ايک ملزم ہلاک اور ايک زخمي حالت ميں گرفتار ہے جس کا علاج عباسي شہيد اسپتال ميں کيا جارہا ہے۔

نارتھ کراچي انڈہ موڑ کے قريب جمعہ 22 فروری کی رات ڈاؤ ميڈيکل کي اسٹوڈنٹ نمرہ مبينہ پوليس مقابلے کے دوران فائرنگ کی زد ميں آکر جاں بحق ہوگئي۔ وزيراعليٰ سندھ  مراد علی شاہ نے انڈا موڑ واقعے کا نوٹس لے کرايڈيشنل آئي جي سے رپورٹ طلب کرلي ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تفصیلی رپورٹ کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں۔

پوليس کے مطابق موٹر سائيکل پر سوار 2 ملزمان نے لڑکی کا سخي حسن کے سے تعاقب کيا اور انڈہ موڑ کے قريب  ملزمان کو اس رکشے کو لوٹتے ہوئے ديکھا گیا جس میں نمرہ  سوار تھی۔ اس دوران وہاں پولیس اہلکار بھی پہنچ گئے۔

چھینا جھپٹی کے دوران نمرہ نے شور مچايا تو ملزمان نے فائرنگ کردی۔ پولیس کی جانب سے بھی ملزمان پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے دوران ایک گولي نمرہ کے سر ميں لگی اور اس کو زخمی حالت میں پہلے عباسی شہید اسپتال اور پھر جناح اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکی۔ جناح اسپتال ميں نمرہ کا پوسٹ مارٹم کيا گيا۔ ابتدائي ايم ايل او رپورٹ  کے مطابق نمرہ کو چھوٹے ہتھيار کي گولي لگی تاہم  سر سے گولي کا سکہ بھي نہيں ملا ہے۔

پوليس کي فائرنگ سے ايک ڈکيت ہلاک اور ايک زخمي حالت ميں گرفتار کرليا گيا۔ پوليس کو جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے 3 خول ملے،واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہ ہوسکا، پوليس اب تک روزنامچہ تک درج نہ کرسکی۔ نمرہ کے ماموں نے شبہ ظاہر کيا ہے کہ نمرہ کو پوليس اہلکاروں ہي کي گولي لگی ہے۔

میری بیٹی اللہ کی امانت تھی،کسی کو کچھ نہیں کہوں گی،نمرہ کی والدہ کا بیان

میڈیا سے بات کرتے ہوئے نمرہ کی والدہ نے بتایا کہ وہ رشتہ داروں کے گھر سے واپس آرہی تھیں۔ اس دوران انھوں نے ایک ايمبولينس ديکھي جو تيزي سے جا رہي تھي۔ جب وہ  گھر آئیں تو بھائي نے بتايا نمرہ زخمي ہوئي ہے تاہم اس وقت نمرہ کی والدہ کو صورتحال کی نزاکت سے نہیں آگاہ کیا گیا۔نمرہ کی والدہ نے مزید کہا کہ اس واقعے پر ميں کسي کو کچھ نہيں کہوں گی، نمرہ اللہ کي امانت تھی۔

کراچی میں مبینہ ڈکیتی میں فائرنگ سے جاں بحق طالبہ کا بھائی اداس

کراچی میں مبینہ ڈکیتی مزاحمت میں جاں بحق طالبہ نمرہ کے بھائي حسن کہتے ہيں کہ  وہ ہميشہ مجھ سے اپني تعليم کے حوالے سے بات کرتي تھي، نمرہ کي باتيں ہميشہ ياد آتي رہيں گی۔

KARACHI KILLING

NIMRA

Tabool ads will show in this div