میری بیٹی اللہ کی امانت تھی،کسی کو کچھ نہیں کہوں گی،نمرہ کی والدہ کا بیان

کراچی میں مبینہ ڈکیتی مزاحمت میں جاں بحق طالبہ نمرہ کي والدہ نے بتايا ہے کہ عمرے پر جانے کا ارادہ تھا، اس لئے ميں رشتہ داروں سے ملنے کيلئے گئي ہوئي تھي جب یہ واقعہ ہوا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے نمرہ کی والدہ نے بتایا کہ وہ رشتہ داروں کے گھر سے واپس آرہی تھیں۔ اس دوران انھوں نے ایک ايمبولينس ديکھي جو تيزي سے جا رہي تھي۔ جب وہ  گھر آئیں تو بھائي نے بتايا نمرہ زخمي ہوئي ہے تاہم اس وقت نمرہ کی والدہ کو صورتحال کی نزاکت سے نہیں آگاہ کیا گیا۔ نمرہ کی والدہ نے مزید کہا کہ اس واقعے پر ميں کسي کو کچھ نہيں کہوں گی ، بیٹی نمرہ اللہ کي امانت تھی۔

نمرہ کے بھائي حسن کہتے ہيں کہ وہ ہميشہ مجھ سے اپني تعليم کے حوالے سے بات کرتي تھي۔ نمرہ کي باتيں ہميشہ ياد آتي رہيں گی۔

کراچی میں مبینہ ڈکیتی میں فائرنگ سے جاں بحق طالبہ کا بھائی اداس

واضح رہے کہ گذشتہ شب کراچی کے علاوہ نارتھ کراچی انڈا موڑ کے نزدیک ڈکیتی کی واردات میں مزاحمت کے دوران مبینہ پولیس مقابلے میں میڈیکل کالج کی طلبہ نمرہ بیگ جاں بحق ہوگئی تھی۔ واقعے میں ملوث  ایک ڈاکو ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا جس کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

جناح اسپتال ميں 4 گھنٹے بعد نمرہ کا پوسٹ مارٹم ہوا۔ ابتدائي رپورٹ ميں دائيں جانب سر ميں لگنے والي گولی موت کا سبب بني، گولی چھوٹے ہتھيار سے چلائی گئی تھی۔

KARACHI KILLING

KARACHI CRIME

NIMRA

Street Crime in Karachi

Tabool ads will show in this div