بینگلور،66سال پرانی"کراچی بیکری"کا نام تبدیل کرنے کیلئے انتہا پسندوں کا حملہ

Feb 23, 2019

بھارتی شہر بینگلور میں قائم "کراچی بیکری" کا نام اس کے مالک کے لئے مشکلات کا سبب بن گیا۔ انتہا پسندوں کا ایک گروپ کراچی بیکری کے باہر احتجاج اور مظاہرہ کرتے ہوئے پہنچا تو مالک کو مجبورا بیکری کے نام کو بینر سے چھپا کر بھارتی جھنڈا لگانا پڑا۔

بھارتی میڈیا کی  رپورٹس کے مطابق بھارتی شہر بینگلور میں کراچی بیکری کے نام سے مشہور بیکری کے بارے میں انتہا پسندوں کا خیال تھا کہ یہ بیکری پاکستانی کمپنی کی ملکیت ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ بیکری سال 1953 سے یہاں قائم ہے۔ پلوامہ واقعہ کے تناظر میں احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ بھارت میں کسی پاکستانی چیز کا وجود برداشت نہیں کریں گے۔ بیکری انتظامیہ کو احتجاج کے ذریعے دباؤ میں لاتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ بیکری کے نام کیساتھ لکھا گیا کراچی کا نام ہٹایا جائے۔

 

بیکری انتظامیہ نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کو یقین ہے کہ یہ بیکری پاکستانی کی ملکیت ہے، تاہم احتجاج اور مظاہرے کے باوجود بیکری اپنے مقررہ وقت رات گیارہ بجے ہی بند ہوئی، ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اس بیکری کا نام فوری تبدیل کیا جائے، حالانکہ اس بیکری کا مالک ایک ہندو ہے، صرف نام میں کراچی شامل ہے، تاہم مظاہرین کو مطمئن کرنے کیلئے ہم نے کراچی والے حصے پر بھارتی جھنڈا لگا دیا ہے۔

یہ خبر میڈیا میں اس وقت منظر عام پر آئی، جب بھارتی صحافی کی جانب سے بیکری کی تصویر اور اس میں لکھا ہوا کراچی ایک بینر سے چھپا ہوا سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دیگر میڈیا ہاؤسز کی جانب سے بھی ردعمل میں کہا گیا کہ احتجاج کرنے والے یہ بھول گئے ہیں، کہ یہ پاکستان کی بیکری نہیں بلکہ اپنے ہی لوگوں کی ملکیت ہے۔

واضح رہے کہ سال 1947 میں پاکستان سے ہجرت کرنے والے ہندو کانچند رمنانی اس بیکری کے اصل مالک ہیں، جنہوں نے اس کی پہلی شاخ حیدرآباد میں قائم کی، جو اب پورے بھارت میں پھیلی ہوئیں ہیں۔ یہ بیکری اپنے فروٹ بسکٹس کی وجہ سے مشہور ہے۔

Banglore

BENGALURU

Pulwama Attack

karachi bakery

Tabool ads will show in this div