مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں نیم فوجی دستے تعینات، وادی چھاؤنی میں تبدیل

مقبوضہ کشمير ميں حريت رہنماؤں کي گرفتاري کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ قابض بھارتی فوج نے امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر اور یاسین ملک سمیت دیگر اہم رہنماؤں کو گرفتار کرلیا، جب کہ وادی میں نیم فوجی دستوں کو بڑی تعداد میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جمعہ کي شب قابض بھارتی فورسز نے حريت رہنما ياسين ملک کو ان کے گھر سے گرفتار کرکے کوٹھي باغ سري نگر منتقل کر ديا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یاسین ملک کو آرٹیکل 35 اے کی متوقع سماعت پر گرفتار کیا گیا، جس کی سماعت پیر کو ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب نام نہاد سرچ آپريشن کے دوران فورسز نے مزید دو نوجوانوں کو شہيد کردیا۔ بھارتی فورسز نے واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پيلٹ گنز کا استعمال کیا، آنسو گيس کي شيلنگ بھی کی گئی، جب کہ دو گھروں کو دھماکے سے اڑا ديا گيا۔

میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے امیر جماعت اسلامی جموں و کشمیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت مرکزی و ضلع قیادت سمیت تمام اہم رہنماوں اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں امیر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر ڈاکٹر عبد الحمید فیاض، مرکزی ترجمان جماعت اسلامی جموں و کشمیر ایڈووکیٹ زاہد علی، سابق سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی جموں و کشمیر غلام قادر لون، امیر جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد عبدالرؤف، امیر جماعت اسلامی تحصیل پہلگام مدثر احمد، عبدالسلام رہنما جماعت اسلامی تحصیل دیالگام، بختاور احمد رہنما جماعت اسلامی، محمد حیات رہنما جماعت اسلامی ترال، بلال احمد رہنما جماعت اسلامی چاڈورہ، غلام محمد ڈار رہنما جماعت اسلامی چک سنگرن سمیت درجنوں دیگر رہنما و کارکنان شامل ہیں۔

دوسری طرف بھارتی حکومت نے کشمیر میں عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے پیرا ملٹری فورسز کی 100 نئی کمپنیاں کشمیر میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کمپنیوں میں سی آر پی ایف کی 45، بی ایس ایف کی 35، ایس ایس بی کی 10، اور آئی ٹی بی پی کی 10 کمپنیاں شامل ہیں۔

indian forces

Pulwama Attack

Tabool ads will show in this div