کراچی میں مضر صحت کھانا کھانے سے ایک ہی خاندان کے 5 بچے جاں بحق

کراچی میں رات گئے مضحرِ صحت کھانا کھانے سے ایک ہی خاندان کے 5 بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ بچوں کی پھوپھی اسپتال میں زیر علاج ہیں، متاثرہ خاندان کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے۔

ترجمان اسپتال کے مطابق تمام افراد کي ہلاکت مضرِ صحت کھانا کھانے سے ہوئي، متاثرہ افراد کو رات گئے اسپتال لايا گيا تھا مگر کوئي بھي بچ نہ سکا۔ بچوں کی پھوپھی کی حالت غیر ہونے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے ایم ایل او کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی وجہ سامنے آئے گی، لاشیں پوسٹ مارٹم کےلیے سول اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

سول اسپتال میں میتیوں کا پوسٹ مارٹم شروع کر دیا گیا ہےجس کے لیے تین ٹیمیں کام کر رہی ہیں، پوسٹ مارٹم پر 7 گھنٹے لگ سکتے ہيں۔

ڈی سی ساوتھ صلاح الدین کا کہنا ہے کہ لاشوں کو آبائی علاقے پہنچانے کا بندوست کر رہے ہیں، ایدھی کی ائیر ایمبولینس تیار ہے، پوسٹ مارٹم کے بعد ميتيں بلوچستان روانہ کي جائيں گے۔

ايس ايس پي ساؤتھ پير محمد شاہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ فيملي نے دوران سفر خضدار ميں دوست کے گھر کھانا کھايا جبکہ بچوں نے راستے میں چپس کھائے اور جوسز پيئے۔ کراچي پہنچ کر فيملي نے صدر کے نوبہار ہوٹل سے بریانی منگوائی۔ ايس ايس پي ساؤتھ کے مطابق دونوں ہوٹلز سے شواہد ليے جائيں گے۔

کراچی، مضر صحت کھانے سے ایک ہی خاندان کے 15 افراد کی حالت غیر

ایس ایس پی ساؤتھ کہتے ہیں کہ واقعہ فوڈ پوائزننگ کا ہي ہے اور اب تک اٹھارہ افراد کو ریسٹورینٹ سے حراست ميں ليا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو تاخير سے اسپتال پہنچايا گيا جب کہ دو بچوں کے جسم اکڑے ہوئے تھے۔

 جاں بحق ہونے والے بچوں میں ڈیڑھ سالہ عبدالعلی، 4 سالہ عزیز فیصل، 6 سالہ عالیہ، 7 سالہ توحید، اور 9 سالہ صلویٰ شامل ہے۔

ڈی جی ساؤتھ شرجیل کھرل کے مطابق متاثرہ فیملی کراچی میں قصر ناز (گورنمنٹ لاجز) میں مقیم تھی اور بچوں کا والد فیصل پیشے سے زمیندار ہے۔ کھانا کھا کر فيملي سوگئي لیکن کچھ دير بعد ہی طبيعت بگڑنے پر فیصل نے اپنی بہن کو رات ڈھائي بجے اسٹيڈيم روڈ پر واقع نجي اسپتال پہنچايا۔ رات 4 بجے فيصل کو فون آيا کہ بچوں کي طبيعت بھي خراب ہے تاہم فيصل فوراً قصر ناز پہنچا تو بچے بے ہوش پڑے تھے۔ انہيں بھي اسپتال پہنچايا گیا جہاں ڈاکٹرز نے موت کی تصديق کی۔

دوسری جانب فوڈ اتھارٹي کی جانب سے وزيراعليٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی گئی ابتدائي رپورٹ کے مطابق ريسٹورنٹ سے کھانے اور قصرناز سے نمونے حاصل کر ليے ہیں جبکہ متاثرہ خاندان نے خضدار اور حب ميں کھانا کھايا۔

وزيراعليٰ نے کمشنر کو ہدايت کی ہے کہ بچوں کے والدين سے جا کر مليں اور اگر متاثرين واپس کوئٹہ جانا چاہتے ہيں تو انتظامات کريں۔

Naubahar restaurant

Tabool ads will show in this div