لاہور کی تنگ گلیاں اور چلتی پھرتی مٹھائی کی دکانیں

ہم سب نے طرح طرح کی مٹھایاں دیکھی بھی ہیں اور کھائی بھی ہیں لیکن گزشتہ دنوں لاہور گھومنے کا اتفاق ہوا تو ایک ایسی...

ہم سب نے طرح طرح کی مٹھایاں دیکھی بھی ہیں اور کھائی بھی ہیں لیکن گزشتہ دنوں لاہور گھومنے کا اتفاق ہوا تو ایک ایسی مٹھائی سے واستہ پڑا کہ میں حیران رہ گیا، لاہور اگرچہ کئی بار گیا لیکن اس بار اندرون لاہور کی قدیم ثقافت کے ترجمان علاقوں میں گھومنے کا ارادہ لیے ہم چار نوجوان دوست کراچی سے لاہور پہنچے، ہوٹل کا انتخاب پرانی انارکلی میں پاکستان ٹی ہاؤس سے متصل کیا، شام کے وقت دوستوں کے ہمراہ سیر کو نکلے تو پہلے پرانی انار کلی کی سیر کرتے ہوئے نئی انار کلی پہنچے اور انگریز راج کے دور کی عکاسی کرتی لاہور کی تنگ گلیوں میں  پیدل چلتے چلتے لواری گیٹ تک پہنچے، راستے کا علم نہیں تھا پوچھتے پوچھتے شاہی قلعہ بھی پہنچ گئے۔

شاہی قلعہ پہنچتے ہی جب رنگین عمارتوں کی بالکونیوں پر نظر پڑی تو ذہن میں لاہور کے بازار حسن کا خیال آیا، مغلیہ دور میں بنائی گئی عمارتیں اور خوبصورت طرز تعمیر آنکھوں میں سمانے لگیں، یہ وہی محلہ تھا جہاں کسی دور میں رقاصاؤں کے کوٹھے ہوا کرتے تھے، ان علاقوں میں محفل موسیقی اور دیگر محفلوں کا انعقاد کیا جاتا تھا چناچہ اب اس محلے کو ایک شاندار قسم کی فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

خیر سیر و تفریح کے بعد واپسی کیلئے نکلے تو پھر پیدل ہی ہوٹل جانے کا فیصلہ کیا، کسی نے بتایا کہ سامنے والی گلی سے جائیں روڈ پر رکشہ مل جائے گا، جب ہم گلی سے ہوتے ہوئے روڈ پر پہنچے تو ایک شخص نے خود ہی ہم سے پوچھا ’بھائی کدھر جانا ہے‘۔ ہم نے بتایا کہ ہم اپنے ہوٹل جانا چاہتے ہیں جو کہ انارکلی کے قریب واقع ہے۔

ہم نے راستہ پوچھا اور شکریہ ادا کرکے ہوٹل کی طرف چل نکلے، ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ وہی شخص پیچھے سے دھیمے لہجے میں آوازیں دینے لگا، میں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس شخص نے دھیمے لہجے میں کہا ’بھائی مٹھائی چاہئے؟‘۔

میں سمجھ نہیں پایا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، اس نے پھر کہا ہر قسم کی مٹھائی موجود ہے، ہم رک گئے اور آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ یہ کہنا کیا چاہ رہا ہے؟، وہ ایجنٹ ہماری طرف ایسے پُر اعتماد طریقے سے دیکھ رہا تھا کہ جیسے ہم ’’میٹھا‘‘ کھانا کو ترسے ہوئے ہیں اور وہ ہمیں ’’مٹھائی‘‘ پیش کررہا ہے۔

وہ شخص پھر ہمارے دوسرے دوست سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا کہ ہر عمر کی لڑکیاں مل جائیں گی اور مختلف قومیتوں کی خواتین کی آفر کرنے لگا، خیر جب اس کی بات ہماری سمجھ آئی تو ہم نے اسے تیز لہجے میں وہاں سے جانے کو کہہ دیا کیونکہ نہ ہی ہم میں سے کوئی ایسا شوق رکھتا تھا اور نہ ہی ہمت اور وہاں سے ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے۔

راستے بھر اسی واقعے پر گفتگو کرتے ایک دوسرے پر جملے کستے اور ہنستے رہے لیکن ہوٹل جاکر ہم نے فیصلہ کیا کہ کل دن میں دوبارہ اس علاقے کی طرف جائیں گے اور دیکھیں گے کہ آخر وہ گلیاں دن میں کیسی لگتی ہیں۔

دوسرے دن جب ہم ان گلیوں میں پہنچے تو وہاں موسیقی کے ساز و سامان کی دکانیں کھلی پائیں۔ ایک دکان پر بیٹھا بچہ ڈھول بنارہا تھا، اس نے ہماری کسی بھی بات پر کوئی ردعمل نہیں دیا لیکن ڈھول کی تیاری کیلئے چلتے ہوئے اس کے ہاتھ اس کی مہارت کا ثبوت دے رہے تھے۔

تھوڑا آگے بڑھے تو کانوں میں ایک انتہائی سریلی آواز ٹکرائی اور ہم اس آواز کا پیچھا کرنے لگے اور گلی کے نکڑ پر موجود ایک گھر کے سامنے پہنچ گئے۔

آواز اسی گھر سے آرہی تھی، کوئی شخص اندر بیٹھا سروں کی پریکٹس کررہا تھا، خیر میرے دوست اندر جاکر اس شخص سے ملنا چاہتے تھے لیکن میں نے منع کردیا، اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں اندر بھی کوئی ’’مٹھائی‘‘ کا چکر نہ ہو۔

 

music

dancers

Heera Mandi

mithai

Shahi muhala

Tabool ads will show in this div