گاؤ رکھشک اور بے جی پی کا گٹھ جوڑ، اقلیت نشانے پر، 44 افراد قتل

ہیومن رائٹس واچ نے سنسنی خیز رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں گائے کی حفاظت کی آڑ میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر قوم پرست ہندو تنظیموں کی سرپرستی میں بلوائیوں نے دسمبر 2018 تک 44 افراد کو قتل کیا جن میں 36 مسلمان شامل تھے جبکہ پولیس اور مقامی انتظامیہ اقلیتوں اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزری روکنے کے بجائے الٹا متاثرین کو نشانہ بنا رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے 104 صفحات پر مبنی نئی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں جنونی گروہ گائے کی حفاطت کے نام پر اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان اور رہنما بلوائیوں کو بیف کھانے اور مویشی کی تجارت کرنے والے افراد کے خلاف تشدد پر ابھارتے ہیں۔ جس کے باعث مئی 2015 سے لیکر دسمبر 2018 تک 44 افراد ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے جن میں 36 مسلمان تھے۔

دوسری جانب پولیس ان جنونی حملہ آوروں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرتی جبکہ بی جے پی کے رہنما عوامی تقریروں میں ان حملوں کو جسٹیفائی کر رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے اس رپورٹ میں گاؤ رکشک گروہوں کے 11 حملوں اور ان پر حکومتی ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان 11 حملوں میں 14 افراد جان سے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت، گائے چوری کے الزام میں 2 مسلمان قتل

اس جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گاؤ رکھشک اور ہندو قوم پرست سیاسی جماعتوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے جبکہ مقامی انتظامیہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔

رپورٹ میں 2016 کے ایک واقعہ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں گاؤ رکھشک بلوائیوں نے ایک مسلمان تاجر اور 12 سالہ بچے کو تشدد کا نشانہ بناکر جان سے مارڈالا تھا۔ وہ دونوں جھاڑکھنڈ میں جانوروں کے میلے میں جارہے تھے۔ بعد میں ان کی لاشیں ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملیں اور ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔

مارے گئے 12 سالہ بچے کے باپ نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ حملے کے وقت وہ قریب ہی جھاڑیوں میں چھپ گئے تھے اور بیٹے کو اپنے آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں جھاڑیوں سے باہر آجاتا تو بلوائی مجھے بھی مار ڈالتے۔ میرا بیٹا چیخ چیخ کر مدد کے لیے پکارتا رہا مگر میں خوف کے مارے سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر حملہ آور خود کو ایسی عسکریت پسند تنظیموں سے جوڑتے ہیں جو بی جے پی سے منسلک ہیں اور زیادہ تر حملے مسلمانوں اور دلت پر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں بزرگ مسلمان قتل

ان حملوں کو روکنے میں انتظامیہ کی عدم دلچسپی نے متعدد کمیونٹیز کو شدید نقصان پہنچایا ہے جن میں کسان، گلہ بان، ٹرانسپورٹرز، گوشت کے تاجر اور لیدر انڈسٹری شامل ہے۔ ایسے ہندو بھی ان حملوں کے باعث پریشان ہیں جن کا ذریعہ معاش لائیو اسٹاک سے وابستہ ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پولیس ہر حملے کے بعد ابتدائی تفتیش تو شروع کردیتی ہے مگر قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھاتی یا پھر ایسے واقعات پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ بیشتر کیسز میں پولیس ملزمان کو پکڑنے اور تفتیش کرنے کے بجائے متاثرین، ان کے اہل خانہ اور عینی شاہدین کے خلاف ان قوانین کے تحت مقدمات درج کرتی ہے جن کے تحت گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے۔

بعض کیسز میں بی جے پی سمیت ہندو قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے سیاسی مفادات کے لیے گاؤ رکھشک کے حملوں کا دفاع کیا۔ جب دسمبر 2018 کو اتر پردیش میں گاؤ رکشک نے حملہ کرکے ایک پولیس اہکار سمیت 2 افراد کو قتل کیا تو ریاست کے وزیراعلیٰ نے نہ صرف اس خونی واقعہ کو ایک حادثہ قرار دیا بلکہ الٹا خبردار کیا کہ اترپردیش میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے۔

MINORITIES

Tabool ads will show in this div