کالمز / بلاگ

افغان طالبان میں دھڑے بندی کی پیش گوئی

جمعیت علماءاسلام ف کے مولانا محمد خان شیرانی رائے،استدلال اور منطق کے لحاظ سے خود کو منفرد سیاستدان ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی دلی تمنا رہی ہے کہ پاکستان و افغانستان کے اہلِ دیوبند انہیں اپنا فکری رہبر و مجتہداعلیٰ تسلیم کریں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جے یو آئی کے اندر فقط وہ ہی مولانا فضل الرحمان کے متبادل ہیں، بسا اوقات مرکزی امارت کے منصب تک پہنچنے کی کوشش بھی کر چکے ہیں ۔ اس امر سے جے یو آئی ف کا ایک عام کارکن بھی بخوبی آگاہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی حیات تک کوئی ان کا متبادل نہیں بن سکتا۔ وہ تصور نہیں کرسکتے کہ مولانا فضل الرحمان کے جیتے جی کوئی اور ،خواہ وہ مولانا شیرانی ہی کیوں نہ ہو ان کا امیر بنے۔کار کنوں کی اپنے امیر سے محبت والہانہ بلکہ جنون کی حد تک ہے۔

 مولانا فضل الرحمان ان دنوں جگہ جگہ عوام اور جماعتی کارکنوں سے رابطہ میں ہیں ۔ مختلف شہروں میں بڑے بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کرچکے ہیں ۔۔ چناں چہ سننے میں آرہا ہے کہ مولانا شیرانی ماہ رمضان سے قبل ہونےوالے مرکزی امارت کے انتخاب لڑنے کی تیاریوں میں ہیں ۔اگر چہ یہ ان کا دستوری حق ہے ۔لیکن ایسے وقت میں کہ جب مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف سیاسی جنگ کا طبل بجاچکے ہیں،مناسب نہیں کہ کوئی امارت کی دوڑ میں شامل ہو۔ یہ انتخاب بلا مقابلہ ہونا چاہیے تاکہ مولانا فضل الرحمان کی توجہ یکسوئی کے ساتھ دن بہ دن گرم ہوتے سیاسی حالات و ماحول پر مرکوز رہے۔ مولانا شیرانی بزعم خویش افغان اُمور کے بھی ماہر ہیں۔ نیزآنے والے وقت کی سیاسی تبدیلوں اور حوادث کی بھی اطلاع کر دیتے ہیں ۔ شیرانی کا علمِ نجوم افغانستان کے مستقبل بارے کہتا ہے”آنے والے دنوں میں افغان طالبان تین دھڑوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک حصہ امریکہ کے ساتھ ، دوسرا افغان حکومت اور تیسرا چین اور روس کی پشت پناہی میں لڑے گا ،اور وہ یہ نعرہ لگائیں گے کہ ہم امریکا کو خطے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اچھا ہوگا کہ مولانا شیرانی اپنے علمِ نجوم کی بنیاد پر یہ بھی بتادیں کہ کون کون طالب رہنماءان دھڑوں کی قیادت کر یں گے ،تاکہ مستقبل کی یہ صورت گری اچھی طرح واضح اور عیاں ہو۔

مولانا شیرانی کہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے انخلاءکے بجائے غیر ضروری فوج کی واپسی چاہتا ہے اور غیر ضروری فوج بھی شرائط کے بعد واپس جائے گی۔مولانا شیرانی کہتے ہیں کہ ہم امریکا کی واپسی کو افغانستان میں شکست سے تعبیر نہیں کرسکتے ۔کیونکہ شکست اسے کہا جاتا ہے جب مورچے خالی کئے جائیں۔ مگر وہ اپنے مورچوں میں بدستور موجود ہیں۔(اخبارات 8 فروری 2019) مولانا شیرانی نے داعش کے نمودار ہونے کے بارے بھی ذُومعنیٰ خدشات کا اظہار کیا ہے۔ مولاناشیرانی  "فری میسنز"  ہرگز نہیں ہے کہ اُن کے ذریعے سے افغانستان میں ایک اور جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے ،نہ اس واسطے سے پاکستان میں داعش کے سر اُٹھانے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ یقینی طور پر مولانا شیرانی قانون بین الاقوام ، بین الاقوامی تعلقات و سیاست کے عالم بھی نہیں کہ جس کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کریں۔ نہ ہی جنگی امور و قوانین کے ماہر ہیں۔ افغانستان کے حالات اور امارت اسلامیہ کی سیاسی و حربی مزاحمت پوری دنیا کے ہاں مسلمہ ہے۔اس جماعت نے پورے عالم کو اپنی طرف متوجہ کئے رکھا ہے ۔اسلامی امارت کے اکابر واضح اور جاندار موقف لیے امریکیوں سے آمنے سامنے بات چیت و مذاکرات کر رہے ہیں۔ نہ افغانستان کی سیاست صوبہ بلوچستان کے اندر پُر کشش محکموں کی وزارتوں کے حصول کی سیاست ہے، کہ جس میں بلا شبہ مولانا شیرانی اپنے معتقدین کے ہاں استاد و رہنماءکی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولانا جے یو آئی ف کے اندر بورژوا مو لویوں دوسرے سرمایہ داروں کے سیاسی امام ہیں۔ جے یو آئی کے اندر بعض شخصیات کے اردگرد سرمایہ داروں کا حلقہ رہتا ہے۔ انہیں ان سے سینیٹ اور عام انتخابات کے لیے ٹکٹوں،حکومتی عہدوں و تعاون کی آس رہتی ہے۔ جبکہ ان کا کچن چل رہا ہوتا ہے۔

بات افغانستان کی کرتے ہیں یقینا امریکا کی خواہش ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کو چند اڈے دینے پر آمادہ کرے۔ یہ شرط ان مذاکرات کے اندر سرے سے اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ کیونکہ امارت اسلامیہ کا بنیادی اور پہلا مطالبہ غیر ملکی افواج کے انخلاءکا ہے۔ یہ شکست ہی ہے کہ امریکہ مزید افغانستان کے آتش فشاں میں اپنے فوجیوں اور قومی دولت کو جھونکنا نہیں چاہتا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کامیابی کے بعد افغانستان میں حاصل زمینی حقائق کے مطابق نتیجہ دکھانے کا حکم دیا۔ان کے سامنے حقائق نامہ مایوس کُن تھا۔افغانستان میں امریکی افواج کے قیام کے سالانہ اخراجات کا تخمینہ 75 ارب ڈالرہے۔ چناں چہ صدر ٹر مپ نے افغانستان میں قیام کے لئے فوجی حکام اور جنگی و سیاسی پالیسی سازوں کو ڈیڑھ سال کا مزید وقت دیا ۔جو اس دوران بھی امارت اسلامیہ کی قوت توڑنے اور ان کے زیر کنٹرول علاقوں سے پیچھے دھکیلنے میں ناکام رہے۔ جس کے بعدصدر ٹرمپ افواج کی واپسی کی پالیسی پر یکسو ہوگئے۔۔ اس عرصے کے دوران امریکی افواج نے افغان طالبان کو پسپا کرنے کا ہر وحشیانہ حربہ استعمال کیا۔ نیٹو کہتی ہے کہ ایک سال کے دوران افغانستان کے طول و عرض میں ہر ماہ چھ سو فضائی حملے کئے گئے۔ لیکن طالبان سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے ۔ البتہ ان حملوں میں حسب سابق افغان عوام جان و مال کا بھاری نقصان ہوتا رہا۔ اگر قابض افواج مورچے خالی نہیں کررہے ہیں، تو اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ جیسے آتش زیر پاکیوں ہیں۔

یاد رہے کہ امارت اسلامیہ امریکہ کو فقط محفوظ راستہ دینے پر آمادہ ہے۔ افغانستان میں اچھے دنوں اور امن کی امید رکھنی چاہیے جس کے لئے دعاوں اور نیک خواہشات کے اظہار کی ضرورت ہے۔ طالبان کی تقسیم کے دور دور تک آثار دکھائی نہیں دیتے۔ نہ ہی ایسا ہونے کی سر دست وجوہات موجود ہیں۔ وہ بقائے باہمی کے قائل ہیں۔ تین سال کی عبوری حکومت پر آمادہ ہیں۔ ماسکو کے اندر افغانستان کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماوں سے دو روزہ نشست اسی مقصد کی خاطر تھی کہ غیرملکی افواج کے انخلاءکے بعد افغانوں کی حکومت اور اچھی طرز حکمرانی کے خدو خال پر اتفاق کیا جائے۔ دیکھا جائے تو امارت اسلامیہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ امریکہ اور نیٹو ممالک سے ان سترہ سالوں میں افغانوں کے خون و املاک کے نقصانات کا تاوان طلب کرے۔ حق بجانب پاکستان بھی ہے کہ وہ نقصانات کے ازالہ کا مطالبہ کرے۔ افغان عوام اپنے پیاروں کا قتل عام نہیں بھولے ہیں۔ 11 فروری 2019 کو ننگر ہار صوبے میں ایک جلسہ جس میں اشرف غنی شریک تھے ۔ہجوم نے ملکی و غیر ملکی افواج کے فضائی حملوں میں شہریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کیا ۔نتیجتاً اشرف غنی کو رفو چکر ہونا پڑا۔ افغانستان میں امن ہو نا ہو، تاہم امریکا کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔ وہ مورچے خالی کرنے کے لیے گھنٹے اور دن گن رہا ہے ۔

 

TALIBAN

jui f

MAULANA FAZAL UR RAHMAN

Tabool ads will show in this div