کلبھوشن یادیو کیس، عالمی عدالت میں بھارت کیلئے مشکلات میں اضافہ

برطانوی ادارے نے کلبھوش یادیو کا پاسپورٹ اصلی قرار دے دیا، حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاسپورٹ بھارتی حکومت کا جاری کردہ ہے،کلبھوشن یادیو نے جعلی شناخت اپنا کر حسین مبارک کے نام سے سفر کیا۔ کیس کی سماعت پیر18 فروری کو ہیگ میں عالمی ادارہ انصاف میں ہورہی ہے۔ بھارتی وکلاء کے دلائل کے بعد پاکستان جواب دے گا ۔

برطانوی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حسین مبارک پٹیل کا پاسپورٹ اصلی جبکہ اس کی شناخت جعلی ہے۔ برطانوی ادارے کی رپورٹ پاکستان نے عالمی عدالت میں پیش کر دی ہے۔

کیس کی سماعت پیر 18 فروری کو عالمی عدالت میں ہورہی ہے۔ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے وکیل خاور قریشی ہیگ پہنچ گئے ہیں۔ان کے ہمراہ اپنی قانونی ٹیم بھی موجود ہے۔ خاور قریشی کی ٹیم کے ہمراہ اٹارنی جنرل انور منصور سے ملاقات ہوئی ہے۔ خاور قریشی نے نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر شجاعت راٹھور اور ڈی جی سارک ڈاکٹر فیصل سے بھی ملاقات کی ہے جس میں کلبھوشن یادیو کیس کے پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے بتایا ہے کہ پاکستان کا کیس انتہائی مضبوط ہے۔

کلبھوشن یادیو کیس، پاکستان کا دفاع کیلئے تحریری جواب تیار

اس سے قبل کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان نے دفاع کیلئے تحریری جواب عدالت میں جمع کروادیا ہے۔ بھارتی جاسوس کا اعترافی بیان پاکستان کے جواب کا حصہ ہے۔

پاکستان کے سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عالمی ادارہ انصاف میں جو جواب جمع کروایا  جائے گا اس میں اہم بیانات بھی شامل ہیں۔ بھارتی جاسوس کا وہ بیان بھی اس کا حصہ ہے جس میں کلبھوشن نے تسلیم کیا کہ اُس کوسی پیک کی جاسوسی اور تباہی کیلئے بھیجا گیا، مجرم نے ایس ایس پی چوہدری اسلم کے قتل میں ملوث ہونے کا بھی اقرار کیا۔

پاکستان کے جواب میں یہ بھی تحریر ہے کہ کلبھوشن جاسوس ہے، ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی نہیں دی جا سکتی، اگر اس کا پاسپورٹ جعلی تھا تو  وہ  17 بار ممبئی اور دلی کا سفر کیسے کرگیا ۔؟۔

پاکستان کے جواب میں یہ بھی شامل ہے کہ بھارتی جاسوسی ادارے راء کے ایجنٹ نے اعتراف کیا کہ بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

raw agent

Kulbhushan Yadav

International Court of Justice

Tabool ads will show in this div