وزیراعظم نے ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری کو شرمناک قرار دے دیا

وزیراعظم عمران خان نے غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر میوزیم ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری اور ہتھکڑیاں پہنانے کو شرمناک حرکت قرار دیتے ہوئے چیئرمین نیب کو ہدایت کی ہے کہ ادارے کے اندر موجود ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ڈائريکٹر آرکيالوجی ڈاکٹرعبدالصمد کو نیب نے گزشتہ روز اختيارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ جمعہ کو نیب نے انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا جہاں سے انہیں 10 روزہ ریمانڈ پر نیب کے سپرد کردیا گیا۔

اس موقع پر احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ استاد کا معاشرے میں مقام ہے۔ ان کا خیال رکھا جائے۔ کرپشن ثبوت کے ساتھ ریکارڈپیش نہ کیا توریمانڈ میں توسیع نہیں کریں گے۔

اس موقع پر ڈاکٹرعبدالصمد نے کہا کہ الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے تونیب افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

نیب کے مطابق ڈائریکٹر آرکیالوجی عبدالصمد کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا ہے جبکہ محکمہ آرکیالوجی کے ذرائع نے بتایا کہ محکمہ میں کلاس فور کی آسامیوں پر 92 ملازمین بھرتی کرنے کے معاملے پر گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

دوسری جانب جمعہ کو وزیراعظم کی پشاور آمد کے موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمودخان نے نیب کے ہاتھوں ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری کا معاملہ اٹھایا اور ان پر واضح کیا کہ نیب کے اس اقدام سے بیوروکریسی پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان میں بد دلی پائی جاتی ہے-

انہوں نے بتایا کہ بیوروکریسی میں خوف کی وجہ سے سرکاری امور کی انجام دہی متاثر ہو رہی ہے۔ جس پر وزیر اعظم نے بھی ٹویٹ کرکے اس اقدام پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری میں ملوث نیب افسروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔

اس کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا کے سنیئر وزیر عاطف خان نے بھی ڈاکٹر عبدالصمد کی حراست کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایشیاء کے پہلے آرکیالوجی پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹرعبدالصمد گولڈ میڈلسٹ اورصدارتی ایواڈ ستارہ امتیازجیت چکے ہیں۔ ان پر صرف کلاس فور کی بھرتیوں کا الزام ہے جس پر نیب نے انہیں ہتھکڑی لگا کرعدالت میں پیش کیا۔ جو اچھا سلوک نہیں ہے۔ نیب کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div