نوازشریف کوٹ لکھپت جیل سے جناح اسپتال منتقل

سابق وزیراعظم نوازشریف کو جناح اسپتال سخت سیکورٹی میں منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کے ذاتی معالج نے 24 گھنٹے تک کارڈيک مانيٹرنگ کا مطالبہ کيا ہے۔

لاہور میں کوٹ لکھپت جیل سے نوازشریف کو جناح اسپتال لایا گیا۔ اس دوران اسپتال کے تمام راستوں پر سیکورٹی کی بھاری نفری تعینات تھی۔ نوازشریف کے لئے کارڈیولوجی وارڈ کا خصوصی کمرے تیار کیا گیا تاہم انھیں وہ کمرا اور وارڈ کے دیگر کمرے پسند نہیں آئے۔نوازشریف کو کارڈیک وارڈ سے گائنی وارڈ ٹو منتقل کیا گیا۔ نوازشریف کے طبی معائنے کے لیے متعلقہ سینئر ڈاکٹرز کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

نوازشریف کو میڈیکل بورڈ کی تجاویز کی روشنی میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ نوازشریف کے لئے 4 میڈیکل بورڈ بنائے گئے جنھوں نے دل کے علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔

لاہور کے خوشگوار موسم نے کوٹ لکھپت جیل میں قید نوازشریف کا موڈ اچھا کردیا

امکان ہے کہ نوازشریف کی اینجوپلاسٹی کی جائے گی تاکہ دل کے عارضے کا علاج ہوسکے۔ نوازشریف کے دل کے پٹھے سخت ہوچکے ہیں اور ان کا تھلیم اسکین ٹیسٹ بھی ہوچکا ہے۔ ان کی شریانوں میں خون کی روانی بھی متاثر ہورہی ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کو جیل سے اسپتال منتقل کردیا گیا

اس سے قبل نوازشریف کو 2 فروری کو سروسز اسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ لئے گئے تھے۔

 جمعرات کو نوازشریف سے جیل میں ان کے اہل خانہ اور لیگی رہنماؤں نے ملاقات کی تھی۔اس دوران ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی جس میں نوازشریف نے خواہش ظاہر کی کہ اگر جيل سے باہر ہوتا تو برف باری کو بھی انجوائے کرتا۔ نوازشريف ن ليگي رہنما صابرشاہ سے مالم جبہ ميں برفباري کا پوچھتے رہے۔

اس دوران نوازشريف آئندہ جمعے تک رہائي ملنے کے لئے پرُاميد دکھائی دئیے۔ اس موقع پر مشاہداللہ نے نوازشریف کو کہا کہ عنقريب جيل کي ديواريں گريں گي اور آپ رہا ہونگے۔ مشاہد اللہ نے امکان ظاہر کیا کہ نوازشریف آئندہ جمعے کی نماز جاتي اُمراء ميں پڑھيں گے۔

کوٹ لکھپت جيل کے باہر پرويز رشيد اور امير مقام نے ميڈيا سے گفتگو ميں کہا کہ نواز شریف کو علاج کی مناسب سہولتیں نہں دی جا رہی ہیں۔

Jinnah Hospital Lahore

Tabool ads will show in this div