لاہورہائی کورٹ نے حج پاليسی کے خلاف درخواست خارج کردی

لاہورہائي کورٹ نے حج پاليسي کے خلاف درخواست خارج کردی۔ جج نے ريمارکس ديے کہ پاليسي معاملات عدالت کيسے سن سکتي ہے، پاليسي پسند نہيں تو آئندہ انہيں ووٹ نہ ديں۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وفاقي حکومت بتائے کہ حج اخراجات ميں کس قانون کے تحت اضافہ کيا گيا۔میاں آصف ایڈوکیٹ کی جانب سے لاہور ہائي کورٹ ميں دائر درخواست ميں وفاقی حکومت، وزارت مذہبی امور کو فریق بنایا گیا ۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ حکومت نے حج اخراجات پر سبسڈي نہيں دی اور پيکج ميں 2 لاکھ روپے کا اضافہ کردیا ہے۔درخواست گزار نے استدعا کي کہ عدالت حج پالیسی 2019 پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے۔

عدالت نے حج پاليسي کے خلاف درخواست خارج کردی اور کہا کہ پاليسي معاملات عدالت کيسے سن سکتي ہے؟جسٹس فرخ عرفان کو درخواست گزار نے کہا کہ پرائيويٹ حج 3لاکھ 56ہزار اورسرکاري ساڑھے4لاکھ ميں ہورہاہے، سبسڈي ختم بھي ہوجائےتب بھي اتنا اضافہ نہيں ہوسکتا ۔ اس پر جسٹس فرخ عرفان نے ریمارکس دئیے کہ اگر اضافہ زیادہ ہے تو لوگ پرائيويٹ طريقے سے چلے جائيں،پاليسي پسند نہيں تو آئندہ انہيں ووٹ نہ ديں۔

دو روز قبل حکومت نے حج پالیسی 2019 کا اعلان کیا تھا جس کے تحت رواں سال کسی کو مفت حج نہیں کرایا جائے گا۔ حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی۔

رواں سال ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کرسکیں گے جب کہ درخواستوں کی قرعہ اندازی 8 مارچ کو ہوگی۔

وزارتِ مذہبی امور نے مزید بتایا کہ سرکاری اسکیم کے تحت ایک لاکھ 7 ہزار 526 اور نجی اسکیم کے تحت 71 ہزار 684 عازمین حج کے لیے جائیں گے۔ 5 ہزار کا اضافی کوٹہ نئے رجسٹرڈ آپریٹرز کو دیا جائے گا ۔

حج پالیسی کے مطابق شمالی ریجن کے لیے حج اخراجات بغیر قربانی 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے ہوں گے، جب کہ قربانی کے اخراجات 19 ہزار 451 روپے  علیحدہ ہوں گے، تاہم جنوبی ریجن کے لیے حج اخراجات بغیر قربانی 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے ہوں گے۔

 

hajj 2019

Hajj policy 2019

Tabool ads will show in this div