سندھ کے اسکولوں میں اساتذہ کی نہیں قابلیت کی کمی ہے، وزیر تعلیم

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/02/Teacher-Issue-Khi-Pkg-12-02-Hasan.mp4"][/video]

صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ نے ہوشربا انکشافات کردیئے، کہتے ہيں کہ سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ نہیں بلکہ قابلیت کی کمی ہے، 91 فیصد اساتذہ سائنس کا مضمون پڑھانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

پاکستان سائنس میں کیسے ترقی کرے گا جب دوسرے بڑے صوبے میں سائنس کے ٹیچرز کا ہی کال پڑگیا، سندھ کے سرکاری اسکولوں میں تو سائنس کا ٹیچر ہی موجود نہیں۔

محکمہ تعليم کے حاليہ سروے کے مطابق سندھ کے 42 ہزار 300 اسکولوں ميں سے 90 فيصد اسکولوں ميں سائنس کے ٹيچر ہی موجود نہيں، جی ہاں یعنی سندھ کے 10 ميں سے صرف ايک اسکول ميں سائنس ٹيچر ہے۔

صوبائی وزير تعليم اعتراف کرتے ہيں کہ اساتذہ کو بھرتی کرتے ہوئے ان کی قابليت کو صحيح طرح نہيں ديکھا گيا۔

محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے تيارکردہ رپورٹ ميں انکشاف ہوا ہے کہ سندھ میں 5 ہزار سے زائد اسکولز ميں بچے کھلے ميدانوں ميں بيٹھ کر تعليم حاصل کررہے ہيں، 9 ہزار 800 اسکولز صرف ایک کمرے پر مشتمل ہیں، 17 ہزار 700 اسکولوں میں صرف ایک استاد موجود ہے۔

MINISTER

Science Teachers

Tabool ads will show in this div