ارشاد رنجھانی کی ہلاکت، وزیراعلیٰ سندھ کا آئی جی کو تحقیقات کا حکم

وزيراعليٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھی قوم پرست پارٹی کے مقامی رہنما ارشاد رنجھانی کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئي جي سید کلیم امام کو مکمل تحقیقات کرنے کا حکم دے ديا۔

وزيراعليٰ سندھ نے ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئي جي سندھ کو ٹيليفون کیا اور مکمل انکوائري کرنے کا حکم دیا۔ وزيراعليٰ سندھ کا کہنا تھا کہ زخمي کو اسپتال منتقل کیوں نہيں کيا گيا اور کوئي اتني ہمت کيسے کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ يہ قانون کي بے خوفي کا نتيجہ نظر آرہا ہے۔

وزيراعليٰ سندھ نے ارشاد رنجھانی کی ہلاکت پر عدالتی تحقیقات کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ارشاد رنجھانی جیئے سندھ تحریک کراچی کے صدر تھے۔

کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں تین روز قبل مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے یوسی چیئرمین رحیم شاہ نے ارشاد رنجھاني کو ڈاکو سمجھ کر گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں؛ بھینس کالونی میں نوجوان کی ہلاکت معمہ بن گئی

رحیم شاہ کا دعویٰ تھا کہ انھیں لوٹنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔ یوسی چیئرمین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ون فائیو پر اطلاع کردی تھی لیکن ٹریفک کی وجہ سے پولیس تاخیر سے پہنچی۔

دوسری جانب فائرنگ سے ہلاک ارشاد رانجھاني کا کرمنل ريکارڈ پولیس کو مل گيا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ارشاد کيخلاف چوري، ڈکيتي اور اسلحہ برآمدگي کے مقدمات نارتھ ناظم آباد، بہادرآباد اور ڈيفنس ميں درج ہيں۔

پوليس کا کہنا ہے کہ ملزم 2003 ميں نارتھ ناظم آباد، 2008 ميں ڈيفنس اور 2013 ميں بہادرآباد سے گرفتار ہوچکا ہے۔

تفتيش کے دوران معلوم ہوا کہ يوسي چيئرمين بينک سے رقم ليکر نکلے تو ڈاکو نے پيچھا کرنا شروع کيا جب کہ ہلاک ڈاکو بينک ملازم سے رابطے ميں تھا۔

مقتول ارشاد رانجھانی کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ اگر ارشاد گناہ گار تھا تو اسے پولیس کے حوالے کیا جاتا، ظالم شخص نے معصوم کو بے گناہ مار ڈالا ہے۔

CM Sindh notice

IRSHAD RANJHANI

UC chairman firing

Tabool ads will show in this div