بھینس کالونی میں نوجوان کی ہلاکت معمہ بن گئی

بھينس کالوني ميں نوجوان کي ہلاکت معمہ بن گئي، ارشاد رانجھانی ڈاکو تھا یا عام شہری تھا پوليس نے تفتيش شروع کر دی ہے، مقتول کو دو روز قبل يوسي چيئرمين نے فائرنگ کر کے زخمي کيا، ارشاد سڑک پر تڑپتا رہا ليکن کسي نے مدد نہيں کي، ہلاکت کي ويڈيو سوشل ميڈيا پر وائرل ہونے کے بعد حکام جاگ گئے۔

بھينس کالوني کراچي ميں شہري کي ہلاکت کا معاملہ الجھ گيا، دو روز قبل يوسي چيئرمين رحيم شاہ نے ايک شخص کو گولي مار کر زخمي کيا ارشاد رانجھاني زمين پر تڑپتا رہا مگر کسي نے مدد نہ کي۔

رحيم شاہ کا دعويٰ ہے کہ انھيں لوٹنے کي کوشش کي گئي، اپنے دفاع ميں فائرنگ کي، رحيم شاہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ون فائيو پر اطلاع کردي تھي ٹريفک کي وجہ سے پوليس تاخير سے پہنچي۔

دو دن پہلے پيش آنے والے واقعے کي ويڈيو وائرل ہوئي تب پوليس کو بھي تفتيش کا خيال آيا۔

ملير پوليس کا کہنا ہے کہ مرنے والے کا کريمنل ريکارڈ چيک کيا جارہا ہے، سندھ کے وزير بلديات سعيد غني کہتے ہيں کہ گولي چاہے مجرم کو لگے اسپتال پہنچايا جانا اس کا حق ہے سندھ حکومت ملوث افراد کے خلاف کارروائي کرے گي۔

دوسري جانب ارشاد کے دوستوں کا دعويٰ ہے کہ وہ سياسي جماعت کا کارکن تھا ڈاکو نہيں، اسے دشمني کي بنا پر قتل کيا گيا۔ واقعے کي مکمل تحقيقات کروائي جائيں۔

ايس ايس پي ملير عرفان بہادر کا کہنا ہے بھينس کالوني واقعے کي ہر پہلو سے تفتيش کي جا رہي ہے، تفتيشي افسر نے عيني شاہدين کو طلب کرليا۔ مقتول ارشاد رانجھاني کے گھر والے کہتے ہیں اگر ارشاد گناہ گار تھا تو اسے پوليس کے حوالے کيا جاتا، ظالم شخص نے معصوم کو بے گناہ مار ڈالا ہے ۔

bhens colony

UC Chairmen

Tabool ads will show in this div