کالمز / بلاگ

وڑانگہ لونی کا ارمان

یہ پچھلے سال 11  مارچ کی بات ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جلسوں کے سلسلے کے پانچویں جلسے کیلئے کوئٹہ پہنچی تھی، میں بھی جلسے کی کوریج کیلئے وہاں گیا تھا۔  میڈیا کا کارڈ جاری ہونے کے باعث اسٹیج تک رسائی ہوئی تو اسٹیج کے دائیں جانب خواتین شرکاء کیلئے نشست کا انتظام تھا، جہاں کچھ پشتون اور بلوچ خواتین بیٹھی ہوئیں تھیں، ان خواتین میں کچھ لاپتہ  افراد کے اہلخانہ سے تعلق رکھتی تھیں، جبکہ جلسے میں شریک  دیگر بولان میڈیکل کالج  اور وکلاء کے وفود کی خواتین ممبران تھیں، جلسے کے مقررین کیلئے مخصوص جگہ بھی درجنوں مرد مہمانوں، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور پی ٹی ایم کی مرکزی قیادت کے ہمراہ 2 خواتین بیٹھی تھیں، جن میں سے ایک تو کوئٹہ کی ہزارہ کمیو نٹی سے تعلق رکھنے والی جانی مانی  وکیل اور انسانی حقوق کارکن جلیلہ حیدر تھیں تو دوسری نوعمر لڑکی جو کہ  روایتی پشتون لباس میں ملبوس تھی، اسے میں نہیں پہچان پایا، میں نے کسی سے استفسار کیا تو بتایا گیا کہ یہ کوئٹہ شہر میں منعقد ہونیوالے علمی تبادلہ خیال کے سلسلے اسٹڈی سرکلز کی مستقل شریک  اور پشتو کے ایک لیکچرار، شاعر اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے منسلک سیاسی کارکن ارمان لونی کی بہن ہیں۔

پھر بی بی سی اردو کے نمائندے نے فیس بک لائیو  کے دوران مجھ سے بات کی تو میرے ساتھ دوسری شریک وڑانگہ لونی ہی تھیں، ان کی گفتگو اور خیالات سُن کر مجھے مزید تجسس ہوا تو وہاں کے دوستوں نے ارمان اور وڑانگہ کے حوالے سے مزید بتایا، جس سے ارمان لونی کے حوالے سے ایک نہایت خوشگوار سا تاثر ذہن میں بیٹھ گیا، ان کے بارے میں معلوم کیا تو پتہ لگا کہ وہ جلسے کے انتظامات کے حوالے سے مصروف ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ باقی جلسوں کے انتظامات میں بھی ان کا کلیدی کردار تھا۔

جلسہ اور  تقریروں کا سلسلہ شروع ہوا تو  وڑانگہ لونی کی باری آئی، ان کا ہر ہر لفظ سیاسی شعور کا آئینہ دار تھا، تقریر کا احوال  میں نے فیس بُک پر کچھ یوں  لکھا، ’کوئٹہ جلسے کی سب سے شاندار تقریر وڑانگہ لونی، ایک نوجوان طالب علم نے کی، جس میں اس نے پی ٹی ایم کے بلوچستان کے جلسوں میں پہلی بار خواتین کی شرکت کو خوش آئند قرار دیا، تو دوسری طرف جلسے میں شریک مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ سب کے ساتھ آپ کے گھر کی خواتین بھی آج اس جلسے میں شامل ہوتیں اور پھر ایک انتہائی اہم بات کی کہ پشتونوں کے اتفاق و اتحاد کی تمام باتیں اس وقت تک بے معنی اور ایک قوم بننے کی ساری باتیں اس وقت تک ادھوری ہیں جب تک کہ خواتین اس عمل میں یکساں طور پر شامل نہ ہوں‘۔

وڑانگہ لونی کے ہر لفظ کے ساتھ بقول شاعر ’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘ والی کیفیت تھی، 18، 19 برس کی  وڑانگہ لونی کیلئے برادرانہ محبت کے جذبات میں اضافہ ہوا، اس کے حقیقی بھائی ارمان لونی کی قدر و منزلت بھی دل میں بڑھ گئی، ساتھ ہی پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے شہرت پانیوالے ایک طالب علم رہنماء کے الفاظ ذہن میں گھوم گئے جس نے ایک بحث کے دوران کہا تھا کہ ہمارے مرد جب تک غلام ہیں ہماری عورتیں آزاد نہیں ہوسکتیں، اس لئے عورتوں کی برابری و شراکت کی باتیں لبرلوں کے لفظی جمع خرچ سے بڑھ کر کوئی وزن نہیں رکھتیں۔

وڑانگہ لونی کے ان خیالات کی پرورش میں پختون ادیبوں، شاعروں اور لکھنے والوں کی تنظیم ’’پختانہ مترقی لیکوالان‘‘ (پختون ترقی پسند لکھاری) کے تحت منعقدہ نشستوں اور  مجالس کا بڑا ہاتھ تھا، اس تنظیم کے بانیوں میں ان کے بڑے بھائی ارمان لونی شامل تھے، اور اس وقت اس کے مرکزی جنرل سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

علمی و ادبی مشاغل اور غم روزگار کے بیچ توازن قائم رکھنے کی تگ و دو میں ارمان نے دوران طالبعلمی کوئلے کی کانوں میں منشی کے طور پر کام کیا، لیکن ان جھمیلوں کو اپنے پیروں کی زنجیر نہ بننے دیا، تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس نے پشتو میں ماسٹرز کیا، کمیشن کا امتحان پاس کیا اور پشتو زبان کے لکچرار کے طور پر تعینات ہوگئے، لیکن یہیں پر نہ رکے، مطالعے و تحقیق کی راہ پر چلتے، ادبی سرگرمیوں سے جڑے رہتے ہوئے ارمان نے ایم فل بھی جاری رکھا اور ’پشتو فوکلوری ادب میں نوآبادیاتی دشمن کیخلاف علامتوں کا استعمال‘ کے عنوان سے تھیسز لکھا۔

موضوع کا انتخاب  ان کی سیاسی فکر کا آئینہ دار تھا، کیوں کہ بلوچستان کے پشتون بیلٹ میں (جسے جنوبی پختونخوا بھی کہا جاتا ہے) قوم پرست سیاست اور پاکستان کی افغان پالیسی پر سخت تنقید کے حوالے سے جانی جانیوالی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق  کے باعث وہ سیاست کے حوالے سے ایک خاص نقطۂ نگاہ رکھتے تھے، پھر پشتو ادب میں مزاحمتی رنگ اس کے سب سے نمایاں پہلوؤں میں سے ہے، اس کی ایک مثال اس سے سمجھی جاسکتی ہے کہ پشتو شاعری میں لفظ ’مُغل‘  جارح  اور مستبد قوت اور دشمن کا استعارہ ہے، یہاں تک کہ رومانوی شاعری میں بھی وصل کی راہ میں حائل ہر شخص، ہر کردار کو مُغل سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ پھر پختونخوا میپ کے مقابل ان کی سیاسی حریف قوتیں یا تو قبائلی شخصیات رہی ہیں یا مذہبی پیشوا اور مُلّا، جو ان کی سیاست جس میں قومی شناخت اور صوبائی خودمختاری کے مطالبات سرفہرست رہے ہیں، کے برخلاف مرکزیت پسند قوتوں کے حلیف رہے ہیں، اس لئے ارمان لونی کے خیالات اور ان کی شاعری پر ان عوامل کی گہری چھاپ ہے۔

جب ارمان نے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے کام شروع کیا تو ان کی انتظامی صلاحیتوں کیلئے موزوں اظہار ہر شہر میں پی ٹی ایم کے جلسوں کی تیاریوں میں ہوا، جہاں جلسے کی کال دی جاتی، ارمان اپنا سفری بیگ لے کر بس پکڑتا اور وہاں پہنچ جاتا، ہینڈ بلز کی تقسیم، ریلیوں کے  نظم و ضبط، بینرز کی سلائی، اسٹیج کی تیاری، غرض ہر معاملہ اس کے حسن انتظام کا عکاس ہوتا، جب کہ اس کے خیالات و افکار کا پرتو اس کا عکس اس کی چھوٹی بہن وڑانگہ لونی کی اسٹیج سے تقاریر میں جھلکتا، جہاں سے وہ پشتون سماج کی ایک ناقد کے طور پر ازکار رفتہ و فرسودہ  پدرسری (پیڑیارکل) روایات کو للکارتی ہے اور ہر شریک کو اس پر ابھارتی ہے کہ وہ اپنے شانہ بشانہ اپنے گھر کی خواتین کو بڑھنے کا موقع دے۔

جب اس کے اپنے آبائی علاقے میں طاقتور قبائلی سردار اس کی سرگرمیوں کے اس نئے ڈھنگ اور پھر اس میں اس کے ہمرُکاب اس کی بہن وڑانگہ لونی کی موجودگی کے شدید مخالف بنے، تو ارمان نے اپنی سرگرمیوں کی راہ میں مزاحم ان قوتوں سے بھڑنے کے بجائے ان سے پہلو تہی کا فیصلہ کیا اور اپنا بوریا بستر اٹھا کر اپنا آبائی علاقہ سنجاوی چھوڑ کر قلعہ سیف اللہ میں آن بسے، کیوں کہ وہ یہ بھانپ چکے تھے کہ قبائلی سردار کی زباں میں کون ان سے مخاطب ہے۔

اس دوران وڑانگہ لونی جو میڈیکل کالج میں داخلے کی آرزومند تھی، اس نے متواتر  دو سال انٹری ٹیسٹ دیا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکی، ارمان کو یہ بھی پیغام دیا گیا کہ اگر وہ باز آئے تو اس کی بہن کا داخلہ ہوجائے گا، اس کیلئے اگرچہ وڑانگہ کے خواب متاع جاں تھے لیکن اس کیلئے وہ اپنے سیاسی فکر و عمل کی راہ کی قربانی دینے کو ہرگز آمادہ نہ تھا، شاید یہ بے نیازی قابل قبول نہیں ٹھہری اور دوران حراست جان گنوا کر وہ اپنی چنی ہوئی سیاسی راہ کے ساتھیوں کے بیچ پہلے مقتول ٹھہرے۔

وڑانگہ لونی نے بھائی کی موت پر اپنے پہلے ردعمل میں کہہ دیا کہ اس نے اپنے بھائی ارمان کو تو کھودیا ہے لیکن اس کی چنی ہوئی راہ، عدم تشدد پر کاربند رہنے اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے پر قائم  رہے گی،  ساتھ میں ہی ارمان سے لی گئی تحریک اور انسپریشن کو لے کر وہ ذاتی  حوالے سے بھی تعلیم میں اپنے پسندیدہ شعبے تک رسائی کی کوشش سے دستبردار نہ ہوگی، جس کی خاطر اس نے پشاور کا رخ کیا ہے جہاں وہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کریں گی۔

KPK

PTM

Waranga Loni

Arman Loni

Pushton

Tabool ads will show in this div