چائنا کٹنگ مقدمہ: 2 ماہ میں فیصلے کا حکم، کے ڈی اے افسر کی ضمانت مسترد

سپریم کورٹ نے چائنا کٹنگ کیس میں احتساب عدالت کو 2 ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا جبکہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( کے ڈی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی ضمانت مسترد کردی۔

جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں رفاعی پلاٹوں پر چائنا کٹنگ کیس کی سماعت ہوئی۔

اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر کے ڈی اے سید عاطف حسین نقوی کی درخواست پر بحث ہوئی مگر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کے ساتھ انہوں نے جو سلوک کیا، اس کی بناء پر یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

 نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے افسران نے گلستان جوہر اسکیم 36 میں چائنا کٹنگ کی اور رفاعی پلاٹوں کو بیچ کر گھر بنا ڈالے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نیب میں ہو کیا رہا ہے۔ ہم سب کچھ سب دیکھ اور سن رہے ہیں۔ نیب عدالتوں میں کیا ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے مقدمات کیوں آرہے ہیں۔

انہوں نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کیا کہ ریفرنسز سست روی کا شکار کیوں ہیں۔ نیب ایک ہی دن تمام گواہوں کو عدالت میں پیش کرے۔

 تفتیشی افسر نے کہا کہ نامزد ملزمان میں کچھ کو گرفتار کرنا تھا جو اب سب گرفتار ہوچکے جبکہ 23 میں سے 2 گواہان بیانات ریکارڈ کراچکے ہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ 5 رکنی بینچ قرار دے چکا کہ نیب میں ضمانت کا کوئی تصور نہیں۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے ڈپٹی ڈائریکٹر کے ڈی اے سید عاطف حسین نقوی کی درخواست ضمانت مسترد کرتے  ہوئےاحتساب عدالت کو 2 ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا۔

china cutting

kda

Tabool ads will show in this div