کالمز / بلاگ

بیلہ بس حادثہ، 27 جانوں کے ضیاع کی ممکنہ وجوہات کیا ہیں؟

پیر اکیس جنوری کی شام بلوچستان کے شہر بیلہ کے قریب ہونے والے بس حادثے میں جہاں 27 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا وہیں اس حادثے نے اپنے پیچھے کئی ایسے تشنہ سوالات چھوڑ دیے جن کے جوابات ڈھونڈنا اب لازم ہو گیا ہے۔ اس روٹ پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی اس قسم کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں، آخر وہ کیا وجہ ہے کہ جس کی بنا پر ایسے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آ رہے ہیں، آیئے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

بلوچستان کے جغرافیہ سے جو لوگ واقف ہیں انھیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگی کہ بلوچستان کی مکران بیلٹ منشیات فروشوں اور ڈیزل مافیا کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، مذکورہ علاقوں میں ایران کے ساتھ ملحقہ بارڈر سے اسمگل ہونے والے ایرانی ڈیزل کی ایک بڑی کھیپ روزانہ لاکھوں گیلن کے حساب سے ان سرحدی راستوں سے ہوتی ہوئی کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں میں اسمگل ہوتی ہے، اور یہ سب کچھ چوری چھپے نہیں بلکہ کمال دیدہ دلیری سے کیا جاتا ہے، اس حوالے سے بلوچستان کے راستوں پر قدم قدم پر موجود چیک پوسٹوں کا کردار بھی ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے اس حصے میں بے روزگاری کے ستائے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس سوائے اس کام کے اور کوئی کام شاید ہی رہ گیا ہو، پھر اس کام میں موجود دولت کی ریل پیل اور کشش نے نوجوانوں کو اس غیر قانونی اسمگلنگ کی جانب  مزید راغب کر دیا ہے۔ یہاں قابل افسوس بات یہ ہے کہ ڈیزل کی اسمگلنگ کے لیے اب ان اسمگلروں نے پبلک ٹرانسپورٹ کا سہارا لے رکھا ہے اور اس سلسلے میں پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی متعدد بار اس طرح کے سانحات پیش آچکے ہیں، اس سے قبل 22 مارچ 2014 کو لسبیلہ ڈسٹرکٹ میں ہی گڈانی کے مقام پر پیش آنے والے واقعہ میں 34 افراد جھلس کر ہلاک ہوئے تھے اور وہ آگ بھی بس کی چھت پر رکھے ایرانی ڈیزل کی وجہ سے بڑھکی تھی، اس واقعہ کے بعد اس وقت کی صوبائی حکومت نے وقتی طور پر ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر پابندی عائد کی تھی لیکن یہ مافیا اتنا طاقتور نکلا کہ محض چند ہفتوں کی جزوی پابندی کے بعد یہ مکروہ کاروبار پھر چل پڑا، اس مافیا کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ جام کمال نے حکومت سنبھالنے کے چند دنوں بعد ہی ایرانی ڈیزل پر پابندی کی بات کی مگر اس پر انھیں پارٹی میں موجود لوگوں کی جانب سے اس قدر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ انھیں اپنی بات واپس لینا پڑی۔

یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ جس علاقہ میں آتشزدگی کا مذکورہ واقعہ پیش آیا یہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا آبائی حلقہ ہے۔ ان کا خاندان گزشتہ 70 سال سے یہاں سے منتخب ہوتا آرہا ہے، جام کمال سے قبل یہاں سے ان کے والد جام یوسف اور ان کے دادا جام غلام قادر بھی منتخب ہوتے آئے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے آبائی شہر میں ایک ہی بوسیدہ سی ایمبولینس کا ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے، یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر بروقت فائر بریگیڈز کی گاڑیاں وہاں موجود ہوتیں تو ہلاکتوں کی یہ تعداد کم ہوسکتی تھیں مگر صرف ایک فائر بریگیڈ کی گاڑی کا ہونا اور اس میں بھی پانی کی وافر مقدار کا نہ ہونا اس المناک حادثےمیں زیادہ ہلاکتوں کی وجہ بنا، آگ بجھانے کےلیے موجود اکلوتے فائر بریگیڈ کا آگ بجھاتے ہوئے جب پانی ختم ہوا تو اسے 50 کلومیٹر کا سفر طے کر کے پانی کےلیے واپس جانا پڑا مگر تب تک آگ اپنا کام کر چکی تھی، اگر بیلہ میں فائر بریگیڈ کی ایک سے زائد گاڑیاں ہوتیں اور وہ ہر طرح کے آلات سے لیس ہوتیں تو شاید ان بدنصیبوں میں سے کئی افراد کی زندگی کے چراغ بجھنے سے بچ جاتے۔

دوسری طرف گوادر کو مستقبل میں پاکستان کی معیشت کی ریڈھ کی ہڈی قرار دینے کی باتیں تو سنی جاتی ہیں مگر یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ تقریبا 700 کلومیٹر کی اس طویل ساحلی پٹی پر مرہم پٹی تک کے لیے کوئی اسپتال موجود نہیں، اکثر اوقات کوسٹل ہائی وے  اور مین آر سی ڈی شاہراہ پر ہونے والے حادثات میں زخمی محض اس وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں کہ انھیں بروقت طبی امداد نہیں ملتی، حکومتی دعوے اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر اس پورے کوسٹل ہائی وے پر ایک بھی برن یونٹ قائم ہوتا تو شاپک، تربت اور بیلہ جیسے واقعات میں بہت سی قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں، یہاں یہ امر بھی قابل افسوس ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال نے صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی تو لگا رکھی ہے مگر صوبے کے اسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ  کسی بھی ٹریفک حادثے کے زخمی کے لیے بھی وہاں انتظامات میسر نہیں اور اس کے لیے بھی انھیں کراچی ریفر کر دیا جا تا ہے، اگر بیلہ کے سول اسپتال میں صحت کی بنیادی سہولیات ہوتی تو ہلاکتوں کا یہ ہندسہ تھوڑا چھوٹا ہو سکتا تھا، جب کہ اگر قریب ہی کوئی برن سینٹر یونٹ موجود ہوتا تو ہلاکتوں میں یقینا کمی ہو سکتی تھی۔

بلوچستان کی آر سی ڈی شاہراہ کو تو خونی شاہراہ تک کہا جا تا ہے۔ اس سڑک پر جتنے حادثات ہوتے ہیں شاید ہی کسی اور شاہراہ پر ہوتے ہوں، اور اس کی سب سے اہم وجہ اس شاہراہ کا ایک رویہ ہونا ہے، تنگ سی سڑک پر گولی کی رفتار سے چلنے والی بسیں اکثر سامنے سے آتی ہوئی گاڑیوں سے ٹکرا جاتی ہیں یا پھر خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے الٹ جاتی ہیں، پھر ان سڑکوں کی مرمت کرتے ہوئے بھی این ایچ اے کی روایتی ہچکچاہٹ سب کے سامنے ہے۔ اگر بلوچستان کی ان شاہراوں کو ملک کی دیگر شاہراوں کی طرح دو رویہ کیا جائے تو ان حادثات میں کمی واقع ہوسکتی ہے، مذکورہ واقعہ میں بھی ایک رویہ سڑک کی وجہ سے بدنصیب بس کی ٹکر سامنے کھڑے ٹرالر سے ہوئی جس کے فورا بعد بس اور ٹرالر میں آگ بڑھک اٹھی تھی۔

گو کہ حکومت بلوچستان نے مذکورہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمشنر قلات، ڈی آئی جی پولیس خضدار رینج، ڈپٹی کمشنر لسبیلہ اور ایس ایس پی لسبیلہ پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے مگر اس کمیٹی کی رپورٹ سے اب کیا نکل کے آتا ہے اس کے لیے وقت کا انتظار کرنا پڑے گا۔

irani diesel

lasbella

CM Jam kamal

coastal high way

Bela Bus accident

Smuggling root

Tabool ads will show in this div