حکم خان شہید کیلئے بم و دیگر بارودی مواد کھلونوں کی طرح تھے

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں ہزاروں خطرناک بموں کو ناکارہ بنانے والے انسپکٹر حکم خان شہید کے تین بیٹے بھی والد کے بعد ملک دشمن عناصر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے قابل ترین انسپکٹر کے تینوں بیٹے اپنے والد کے مشن کو آگے لے جانے اور دہشت گردوں کے شر سے معصوم شہریوں کی حفاظت کے لئے پرعزم ہیں۔

انسپکٹر حکم خان شہید نے خیبر پختونخوا میں کشیدہ حالات کے دوران ہر ضلع میں شر پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اس دوران وہ دہشت گردوں کی جانب سے نصب کردہ تقریبا ہر بم کے سامنے سب سے پہلے اپنا سینہ پیش کیا کر تے تھے اور انتہائی مہارت اور دلیری کے ساتھ تباہی کے ہر ایک منصوبے کو ناکام بناتے تھے۔

شہید انسپکٹر حکم خان نے اپنی زندگی میں ہزاروں بموں کو ناکارہ بنایا اور اگر اُن کو ایشاء میں سب سے ذیادہ خطرناک بموں کا ناکارہ بنانے والا واحد سپاہی کہا جائے تو بالکل بھی غلط نہ ہوگا۔ ان کے ساتھیوں اور جونیئرز کے بقول وہ ہر خطرے کا اکیلے مقابلہ کیا کرتے تھے اور مشکل حالات میں اپنے ساتھیوں کو خود سے پیچھے رکھتے تھے۔

اس کو معجزہ کہے یا ایک اتفاق؟ جس تاریخ کو اس مرد میدان نے جنم لیا تھا اسی تاریخ کو وہ پولیس میں بھرتی بھی ہوئے اور پھر انہوں نے دوران ڈیوٹی اپنی خداد صلاحیتوں اور دلیری کے ساتھ ایسے کارنامے انجام دیئے کہ دنیا کو حیران کر دیا۔۔

 14 پشاور کے مضافاتی علاقے متنی کے گاوں پاسنی میں اپریل 1981 کو پیدا ہونے والے حکم خان 14 اپریل 1981 کو خیبر پختونخوا پولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہوئے اور ٹرینگ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بی ڈی یو میں شمولیت اختیار کی۔

حکم خان کو بے پناہ ٹیلنٹ اور بہترین کارکردگی کی بناء پر بی ڈی ایس کا انچارج لگایا گیا۔ 1990 کی دہائی میں لکی مروت کے گمبیلہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں نامعلوم افراد نے 14 عدد اینٹی پرسنل مائن نصب کیئے تھے جن کو ناکارہ بنانے کے لیئے حکم خان شہید کو پشاور سے طلب کرلیا گیا۔

مذکورہ مقام پر پہنچتے ہی انہوں نے کام شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے 13 مائنز کو ناکارہ بنایا جبکہ کام کے دوران آخری مائن زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے باعث حکم خان بائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سےمحروم ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد وہ کئی دنوں تک اسپتال میں زیر علاج رہے اور صحت یاب ہوتے ہی انہوں نے دوبارہ ڈیوٹی جوائن کرلی۔ اس دوران ساتھیوں نے انہیں کام سے منع کیا لیکن وہ نہ مانے اور اسی طرح وہ آخری دم تک دہشت گردوں کے مزموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں۔

 انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران ہزاروں بموں کو ناکارہ بنایا جس میں خود کش جیکٹیں اور بارود سے بھری گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق حکم خان نے 3 ہزار کے لگ بھگ بموں کو ناکارہ بنایا تھا لیکن 28 ستمبر 2012 کو جمعہ کا دن تھا کہ پولیس کو بڈھ بیر کےعلاقے میں بم کی موجود گی کی اطلاع ملی جس کو ناکارہ بنانے کے لئے ہمیشہ کی طرح وہ خود موقع پر پہنچ گئے۔ لیکن اس بار ان کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور لاکھوں زندگیاں بچانے والا یہ مجاہد دھماکے میں شہید ہوگیا۔

وطن کے اس نڈر سپوت نے نا صرف خود دشمنوں کا مقابلہ کیا بلکہ دوران ڈیوٹی ہی انہوں نے اپنے دو بیٹوں کو پولیس میں بھرتی کروایا اور انہیں خود بموں کو ناکارہ بنانے کی تربیت دی۔

 حکم خان کے بڑے بیٹے اے ایس آئی اکرم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود والد کے ساتھ کئی سالوں تک کام کیا اس دوران ان کے والد نے کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ میرے والد ہیں ہر موقع پر وہ دیگر جونیئرز کو پیچھے رکھتے تھے اور مجھے اپنے ساتھ آگے لیکر جاتے تھے۔

اکرم خان کہتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ اپنے بچوں کو خطروں سے دور رکھتے ہیں لیکن میرے والد دنیا کے وہ واحد دلیر انسان تھے جو شہریوں کو بچانے نہ صرف خود آگے رہتے بلکہ اپنے جگر گوشوں کو بھی اپنے ساتھ آگے لے کر جاتے تھے۔

 اکرم خان کا کہنا ہے کہ جب بھی دھماکہ خیز مواد کی موجود گی کی اطلاع موصول ہوتی تو ان کے والد ڈرائیور کو ہٹھا کر خود گاڑی چلاتے تھے اور برق رفتاری سے بم کے پاس پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔

انہوں نے اپنے والد کا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک دن انہیں پشاورکے کوہاٹ روڈ پر ایک مشتبہ گاڑی کی موجودگی کی خبر ملی جس کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ اسکواڈ میں روانہ ہوگئے۔ مزکورہ گاڑی کے پاس پہنچے تومعلوم ہوا گاڑی بارود سے بھری ہے۔

اکرم خان کہتے ہیں کہ بارود کی موجودگی کی تصدیق کے بعد ان کے والد نے دیگر ساتھیوں کو پیچھے رہنے کا کہا اور مجھے اپنے ساتھ آگے لے کر گئے۔ گاڑی کے پاس پہنچتے ہی والد صاحب نے بیٹری وائر نکالنے اور ڈیٹونیٹرتلاش کرنے کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے میں نے گاڑی کا بونٹ کھولا جس کے بعد ہم دونوں باپ بیٹے نے انتہائی مشکل طریقے سے گاڑی میں نصب بم کو ڈیفوز کردیا۔

بم کے مین سسٹم کو ناکارہ بنانے کے بعد جب گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اندر کے خانوں سے دو عدد ماٹر گولے اور 15 من بارودی مواد بر آمد کر لیا گیا۔ اگر یہ دھماکہ ہوتا تو آس پاس کی تمام عماتیں زمین بوس ہوجاتی اور سینکڑوں بے گناہ شہری مارے جاتے۔

شہید حکم خان کے دوسرے بیٹے آدم خان بھی بھی بی ڈی ایس کا حصہ ہے اور سی ایم ہاؤس کی سیکورٹی پر مامور ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں بھی اپنے والد نے بموں کو ناکارہ بنانے کے گُر سکھائے جس پر کام کرتے ہوئے انہوں نے بھی کئی مقامات پرشرپسندوں کی جانب سے نصب کیے گئے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنایا۔

آدم خان کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے انہیں بہادی سے جینا سکھایا ہے اور شہادت سے قبل ہی شہریوں کو بچانے کے لیے اس عظیم مشن کو آگے لے جانے کی وصیت کردی تھی۔

انسپکٹر کے عہدے پر کئی سال فائز رہنے کے باوجود حکم خان ایک کچے مکان میں رہتے تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ہمیشہ ایمانداری سے نوکری کی اور اپنے بچوں کو بھی حرام کی کمائی سے دور رہنے کی وصیت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باپ کی شہادت کے بعد محکمہ پولیس سے ملنے والے فنڈز سے انہوں نے اپنے گھر کی مرمت کروائی۔

شہید حکم خان نے اپنی پوری زندگی ملک وقوم کے نام پر وقف کردی تھی۔ مگر شہادت کے بعد ان کو نظر انداز کردیا گیا۔

حکم خان کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ والد کی شہادت کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے حکم خان شہید کو ستارہ جرات دینے اور اُن کے ایک بیٹے کو ایف آئی میں بھرتی کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس اعلان کو تاحال عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا اور آج بھی ان کا چھوٹا بیٹا نوکری کے حصول کے لیے روزانہ دفاتر کے چکر کاٹتا رہتا ہے۔

War on Terror

Tabool ads will show in this div