تجاوزات آپریشن کے بعد کتنی تبدیلی آئی؟

کراچی میں ڈھائی ماہ پہلے تجاوزات کے خاتمے کیلئے بلدیہ عظمیٰ نے صدر میں گرینڈ آپریشن کیا تھا، مگر ٹریفک کے مسائل میں کوئی فرق نہیں پڑسکا۔

تجاوزات کے خلاف اس آپریشن کے دوران صدر میں واقع سینکڑوں دکانیں ڈھا دی گئیں اور پتھارے ٹھیلے ہٹائے گئے۔

شہریوں کا خیال تھا کہ آپریشن کے بعد ٹریفک جام کے مسئلے سے چھٹکارا مل جائے گا۔ کیا یہ مسئلہ حل ہوچکا ہے؟

متعلقہ خبر: ایمپریس مارکیٹ کے کرایہ دارقابضین کیسے بن گئے؟

سماء کے نمائندے محمد علی حفیظ نے آپریشن انچارج اور کے ایم سی کے انسداد تجاوزات کے ڈائریکٹر بشیر صدیقی کے ساتھ موٹر سائیکل پر صدر کا دورہ کیا۔

سماء کے سوال پر بلدیہ عظمیٰ کے اعلیٰ آفیسر نے ٹریفک جام پر تبصرے سے پرہیز کرتے ہوئے کہا کہ صدر میں تجاوزات نظر نہیں آرہی ہیں۔

جب انسداد تجاوزات کے شعبے کے ڈائریکٹر کو صدر میں موجود ٹھیلے اور پتھارے دکھائے گئے تو انہوں نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی کوتاہی ہے ، ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا اس کا لینڈ کنٹرول کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس ہے۔

متعلقہ خبر: ہل پارک کی اراضی پر تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری

ایک موٹر بائیک سوار نے سماء کو بتایا کہ آپریشن کے باوجود علاقے سے گزرنے میں دس منٹ سے زیادہ کا وقت لگ جاتا ہے، ٹھیلے صرف پانچ دن کے لیے غائب رہنے کے بعد دوبارہ واپس آگئے ہیں۔

اس موقع پر کے ایم سی کے ڈائریکٹر بشیر صدیقی نے بتایا کہ صدر میں دوبارہ آپریشن کیا جائے گا ، اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کومتحرک کیا جائے گا اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں شہر بھر سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا۔

anti-encroachment operation

Saddar Karachi

Karachi Municipal Corporation (kmc

Tabool ads will show in this div