اسلام آباد، نجی اسپتال نے 7 لاکھ بل کیلئے لاش روک لی

اسلام آباد میں 27 سالہ نوجوان فہد سوائن فلو کے باعث زندگی کی بازی ہارگیا۔ پہلے سرکاری اسپتال پمز میں لایا گیا مگر اسپتال انتظامیہ نے داخل نہ کیا۔

نجی اسپتال نے داخل تو کر لیا مگر فہد جانبر نہ ہوسکا۔ اسپتال انتظامیہ نے اس کی لاش کو ہی بلینک چیک سمجھ کر لواحقین سے کیش کروانے کی کوشش  کی۔ لاش مانگنے پر 7 لاکھ کا بل ورثا کے ہاتھ میں تھما دیا کہ بل دو اور لاش لے جاؤ۔

متوفی کے بھائی شہران کا کہنا ہے کہ سات آٹھ دن کے بعد کل اسکا وینٹ اتارا ہے۔ ہمیں کہتے ہیں وہ نارمل ہے، سب کچھ ٹھیک ہے اور صبح تین بجے کہتے ہیں کہ وہ ایکسپائر ہو گیا ہے۔ صبح باڈی لینے گیا تو کہتے ہیں پیسے لے کر آئیں۔

نجی اسپتال کی انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاج میں پچاس فیصد رعایت بھی کی ہے۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ہم نے ان کی میت نہیں روکی۔ 50 فیصد ہم دے چکے۔ جو خرچ آتا ہے نائٹروجن گیسزاور وینٹ کی قیمت اور اسٹاف کی دینا ہوگی جبکہ ڈاکٹر کی فیس بھی مائنس ہو چکی ہیں۔

مرحوم فہد کے بھائی اور اسپتال انتظامیہ کے درمیان اسی معاملے پر تکرار بھی ہوئی۔ بات میڈیا تک پہنچنے کی خبر ملی تو اسپتال انتظامیہ نے اپنی جان چھڑانے کے لیے لاش ورثا کے حوالے کردی۔

DEAD BODY

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div