پنج تیرتھ مندر تنازعہ،صوبائی کے بعد وفاقی حکومت بھی میدان میں کود پڑی

پشاورمیں قدیم مندرپنج تیرتھ آثار کا تنازعہ ،صوبائی حکومت اور راجپوت ہندوں برادری کے بعدوفاقی حکومت بھی درمیان میں کود گئی، ڈپٹی کمشنر پشاور نےدونوں محکموں کے حکام کو آج طلب کر لیا۔

پشاور میں دو سو سال پرانے آثار پنج تیرتھ کے معاملہ پر متروکہ املاک بورڈ پاکستان نے محکمہ آثارقدیمہ خیبرپختونخواکووارننگ جاری کردی ،مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق اقلیتوں کی تمام عبادت گاہوں کی نگرانی اور ملکیت متروکہ املاک بورڈ کے پاس ہے لہذامحکمہ اثارقدیمہ کومندراور ملحقہ پارک خالی کرانے کا اختیار نہیں۔

تنازعہ پرڈپٹی کمشنرپشاور نے دونوں اداروں کے حکام کا اجلاس طلب کرلیاہے پنج تیرتھ کے مقام پر مندر کے آثار موجود ہیں۔جبکہ ایک فیملی پارک بھی قائم کیا گیا ہے،کچھ روز قبل محکمہ آرکیالوجی نے ان آثار کو محفوظ بنانے کےلئے ڈی سی پشاورکو پارک خالی کرانے کا مراسلہ لکھاتھا۔

دوسری طرف پنج تیرتھ مندر پر پشاور کی راجپوت سوسائٹی نے بھی دعویداری کر دی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے حکومت سے تمام اراضی کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضع رہے کہ حکومت خیبر پختونخوا نے چند روز قبل ہندووں کی قدیم مذہبی عبادت گاہ پنچ تیرتھ مندر کو قومی ورثہ قرار دینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ہندوں راجپوت زات کی پنچائیت نے مذکورہ مندر اور اس سے ملحقہ 14 کنال اراضی کو ان کے حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

 

KP GOVERNMENT

archaeology

Panjh teerth

Temple in Pishawar

Tabool ads will show in this div